Aankh Se Teer Nikalein Mere Bazu Nahi Hain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Syed Mudassir Mehdi
گود میں حضرت شبیر کے عباس کا سر
بھائی بھائی سے جدا ہونے کو ہے دریا پر
دل میں حسرت رخ انور پہ پڑے ایک نظر
بولے عباس یہ زحمت بھی نہیں دیتا مگر
آنکھ سے تیر نکالیں مرے بازو نہیں ہیں
خون آنکھوں سے ہٹائیں مرے بازو نہیں ہیں
آخری بار رخ سید ابرار دکھے
میری آنکھوں کو مرا مالک و مختار دکھے
خاک و خوں رخ سے ہٹا دیں مرے بازو نہیں ہیں
میرے بازو تھے سلامت تھا حرم کا پردہ
سامنا کیسے سکینہ کا میں کر پاؤں گا
میرا لاشہ نہ اٹھائیں مرے بازو نہیں ہیں
اک طرف ہے علم اور ایک طرف مشک چھدی
شاید اس میں ہو سکینہ کے لیے کچھ پانی
ریت سے مشک اٹھائیں مرے بازو نہیں ہیں
ابھی زندہ ہوں کوئی آپ پہ حملہ نہ کرے
اپنی تلوار اٹھاؤں گا میں ان دانتوں سے
بس سہارے سے اٹھا دیں مرے بازو نہیں ہیں
لب دریا سے علمدار کی آتی تھی صدا
چل گیا آپ کے حلقوم پہ خنجر مولا
ہائے لٹتی ہیں ردائیں مرے بازو نہیں ہیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.