Chehlum Hussain Ka Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Syed Kumail Mehedi Naqvi
اک شور جابجا ہے بیمار اٹھ گیا ہے زنداں کا در کھلا ہے
ہمراہ اپنے لے کر ابن علی کا دلبر پھر قافلہ چلا ہے
کوزہ لحد پہ رکھ کر کرب و بلا کو چلیئے چہلم حسین کا ہے
آنکھوں میں اشک لے کر کرب و بلا کو چلیئے چہلم حسین کا ہے
کہتی ہے بنت حیدر کرب و بلا کو چلیئے چہلم حسین کا ہے
کر دے کوئی منادی رنج و الم کی عادی جس نے سدا دعا دی
قید ستم سے چھوٹ کر جاتی ہے کربلا کو کوفے کی شہزادی
پرچم جری کا لے کر کرب و بلا کو چلیئے چہلم حسین کا ہے
اب سر کھلے نہیں ہیں بازو بندھے نہیں ہیں پہرے لگے نہیں ہیں
گرد مسافرت سے سادات مصطفی کے چہرے اٹے نہیں ہیں
نیزوں پہ اب نہیں سر کرب و بلا کو چلیئے چہلم حسین کا ہے
مشکل بہت ہے جینا پھٹتا ہے غم سے سینہ ہے غمزدہ مہینہ
زخمی مسافروں کو پانی نہیں ہے پینا زنداں میں ہے سکینہ
دل ہے بہن کا مضطر کرب و بلا کو چلیئے چہلم حسین کا ہے
پرسہ برائے زہرا اولاد مصطفی کا عباس باوفا کا
ذہنوں میں اپنے رکھنا میدان کربلا کا ہر ایک غمزدہ کا
چلتے ہیں دل پہ خنجر کرب و بلا کو چلیئے چہلم حسین کا ہے
پانی پلانے والو پرچم اٹھانے والو نوحے سنانے والو
بچوں کو اپنے لے کر کرب و بلا کی جانب ہر سال جانے والو
شال عزا سجا کر کرب و بلا کو چلیئے چہلم حسین کا ہے
زندہ رہے ہمیشہ اہل عزا کا کنبہ لے کر دعائے زہرا
ہر دم یہی صدا ہو ہر لب پہ یہ بپا ہو چہلم یہ کربلا کا
چہلم منانے انصر کرب و بلا کو چلیئے چہلم حسین کا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.