Maa Bhi Na Ho Dunya Mein Aur Baap Bhi Mar Jaye
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
احساس یتیمی ہے ویراں ہے علی کا گھر
بن باپ کے یہ پہلی رات آئی ہے بچوں پر
روتی تھیں کہیں زینب شبیر کہیں شبر
فضہ نے یہ دیکھا تو کہنے لگیں رو رو کر
ماں بھی نہ ہو دنیا میں اور باپ بھی مر جائے
اللہ کسی پر بھی یہ وقت نہیں آئے
اللہ اللہ اللہ اللہ
میت جہاں رکھی تھی زینب وہیں بیٹھی ہے
عباس کے چہرے کو اب دیکھ کے روتی ہے
کہتی ہے کوئی میرے بابا کو بلا لائے
یہ رات خدا جانے کس حال میں گزرے گی
بچوں کی نگاہوں میں تصویر ہے بابا کی
بابا سے جدا ہو کر کس طرح جیا جائے
ماں یاد جو آئے تو ہو آتے تھے تربت پر
رخصت کیا بابا کو حسنین نے یہ کہہ کر
ملنے کہاں جائیں گے جب باپ کی یاد آئے
ہاتھوں میں رقیہ کے بابا کا مصلی ہے
کلثوم کے ہاتھوں میں بابا کا عمامہ ہے
بابا نہیں آئیں گے اب کون یہ بتلائے
اس عالم غربت میں ماں زندہ اگر ہوتی
بن باپ کے بچوں کو سینے سے لگا لیتی
آغاز یتیمی ہے دل غم سے نہ پھٹ جائے
اب مجھ کو رلاتا ہے شہزادی کا وہ کہنا
فضہ میرے بچوں سے تم دور نہیں رہنا
ماں باپ کے بن جینا مشکل ہے بہت ہائے
ذیشان و رضا ہائے نوحہ تھا یہ فضہ کا
اب بیٹیوں کے سر پہ سایہ نہیں بابا کا
مشکل ہے یتیموں پہ یہ رات گزر جائے
بھولی ہے کہاں زینب وہ چومنا شانوں کو
جب شام میں دیکھے گی رسی کے نشانوں کو
یاد آئے گی بابا کی اس وقت بہت ہائے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.