Kaba aur Madar-e-Ali
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Rizwan Zaidi
یاد رکھ کعبہ یہ خاتون علی کی ماں ہے
دو جہاں اس کے ہیں ممنون علی کی ماں ہے
گل خدائی بھی ہے مرہون علی کی ماں ہے
کیا رقم ہو کوئی مضمون علی کی ماں ہے
اپنے ہاتھوں سے امامت کا گہر ڈھالے گی
یہ وہ ماں ہے جو نصیری کا خدا پالے گی
سن اے کعبہ حرم حضرت عمران ہے یہ
دیکھ آئینہ وحدت کا اک امکان ہے یہ
دیکھ کعبہ سبب ناطق قرآن ہے یہ
یاد رکھ کعبہ کہ اللہ کی مہمان ہے یہ
حامل نور ہے نور ازلی کی ماں ہے
سر کو قدموں میں جھکا دے یہ علی کی ماں ہے
ابوطالب کا حرم، بیت حرم تک پہنچا
یعنی خالق کا کرم بیت حرم تک پہنچا
خانہ رب کا بھرم بیت حرم تک پہنچا
بنی ہاشم کا ہشم بیت حرم تک پہنچا
آئی آواز جلی رب کا ولی آتا ہے
کعبہ دیوار کو در کر کے علی آتا ہے
مرتبہ تیرا بڑھانے یہ قدم آئے ہیں
راز توحید بتانے یہ قدم آئے ہیں
بام و در تیرے سجانے یہ قدم آئے ہیں
تجھ کو اب قبلہ بنانے یہ قدم آئے ہیں
یہ نہیں آتے تو پھر سوچ ذرا کیا ہوتا
جس جگہ آتے علی پھر وہی کعبہ ہوتا
دیکھ کعبہ تیری عظمت کے نشاں ہیں یہ قدم
وہ جگہ عرش معلی ہے جہاں ہیں یہ قدم
کس کو معلوم بلندی میں کہاں ہیں یہ قدم
جہاں قوسین کی منزل ہے وہاں ہیں یہ قدم
رب اکبر نے ہر اک ماں کو عطا کی جنت
ان کے نیچے ہے نصیری کے خدا کی جنت
دیکھ اے کعبہ یہ ہے قبلہ نمائی کا جواز
لینے آئی ہے یہاں یہ مری توحید کا راز
ماں اسے کہہ کے پکارے گا جو وحدت کا ہے ناز
آج سے خانہ رب تجھ پہ بھی واجب ہے نماز
بام و در تیرے سبھی وقف تولا ہوں گے
اس کے قدموں کے نشاں تیرا مصلی ہوں گے
گل ایمان کا ایمان ہے اس کی جھولی
پردہ وحدت امکان ہے اس کی جھولی
آیت کبری کا جزدان ہے اس کی جھولی
خود میں ڈھانپے ہوئے قرآن ہے اس کی جھولی
یہ وہ ممکن جسے امکان کی ضرورت ہی نہیں
اس کی ماں ہے کہ جسے ماں کی ضرورت ہی نہیں
نور اللہ کا مسکن بنا اس ماں کا وجود
مریم و سارہ کریں نقش کف پا پہ سجود
مقصد ذات الہی کا یہی ہے مقصود
اس کے فرزندوں پہ خود پڑھتا ہے اللہ درود
بے نیازانہ سر کوئے نیاز آتی ہے
یوں سمجھ لیجئے کعبے میں نماز آتی ہے
کلمہ رب جلی ہے یہ کلاموں کی ہے ماں
یہ درودوں کی ہے ماں اور سلاموں کی ہے ماں
وہ جو اسمائے خدا ہیں انہی ناموں کی ہے ماں
بس علی کی نہیں یہ بارہ اماموں کی ہے ماں
سارے عالم کی اماں اپنی اماں کہتا ہے
سوچ وہ کیا ہے محمد جسے ماں کہتا ہے
بولی دیوار حرم آپ پہ ہوں لاکھ سلام
آپ کا ہے یہ کرم آپ پہ ہوں لاکھ سلام
آپ سے ہے یہ بھرم آپ پہ ہوں لاکھ سلام
آپ کے آئے قدم آپ پہ ہوں لاکھ سلام
میری دہلیز پہ انوار اتر آئے ہیں
اصل وارث ہیں جو اس گھر کے وہ گھر آئے ہیں
در کعبہ نے کہا بنت اسد بسم اللہ
لائی ہیں ساتھ خدائی کی سند بسم اللہ
لائی ہیں جھوٹے خداؤں کی بھی رد بسم اللہ
قاب قوسین سے اب مل گئی حد بسم اللہ
آمد نور مبیں آج یہاں ہونی ہے
آج معراج کو معراج یہاں ہونی ہے
سن کے آواز یہ کعبے نے نیا در کھولا
در جو کھولا تو وہ دیوار کے اندر کھولا
وہ جو منظر میں نہ تھا وہ پس منظر کھولا
ولی اللہ نے اللہ کا یوں گھر کھولا
آئی آواز خدا گھر کے مکیں آتے ہیں
وہ جو پردوں میں نہاں تھے وہ یہیں آتے ہیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.