Qalb e Man Ali Ali Ali
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Mir Hasan Mir / Sajjad Mohammadi
قلب من علی علی علی روح من علی علی علی جان من علی علی علی مولانا علی علی
دل کھنچا جاتا ہے ہر بار میرا ان کی طرف
منم غلام حضرت شاہ نجف
دامن کو آنسوؤں سے بھگوئے گا سال بھر
اپنے گناہ کاندھوں پہ ڈھوئے گا سال بھر
تیرہ رجب جو کعبے کی صورت نہیں ہنسا
ارے وہ آدمی نصیب کو روئے گا سال بھر
کہتی ہے کعبے کی دیوار بصد عز و شرف
دل علی، دلبر علی، سرور علی، راہ علی، رہبر علی، محشر علی
جان علی، جانان علی، ایمان علی
روح علی، رحم علی، رضوان علی
اللہ اللہ
پھر سنیں گے اسی انداز میں حیدر حیدر
صاحب العصر کی آواز میں حیدر حیدر
آسمانوں سے یہ عیسی کی صدا آتی ہے
ہو نئے سال کے آغاز میں حیدر حیدر
علی میرے لب پر ہو علی علی
علی ہر اک گھر گھر ہو علی علی
علی بس اب کھل کر ہو علی علی
علی مولا، علی مولا، علی مولا، علی مولا
اک طرف سارا زمانہ ہے علی ایک طرف
اذن معبود سے کونین چلاتا ہے علی
رات کی نیند سے سورج کو جگاتا ہے علی
درس توحید فرشتوں کو سکھاتا ہے علی
دو جہاں میں جہاں دیکھو نظر آتا ہے علی
تسبیحم علی
تقریرم علی
تقدیرم علی
علی مولا، علی مولا، علی مولا، علی مولا
میرے سینے میں ہے بجتی یہی نوبت یہی دف
حق کا عرفان جو پایا تو علی یاد آیا
دل میں قرآن سمایا تو علی یاد آیا
اپنے گھر سے میں چلا کر کے ارادہ حج کا
تھی یہ نیت کے کروں گا میں طواف کعبہ
کعبہ جب سامنے آیا تو علی یاد آیا
ایک ہی در ہے علی جس کا یہ کعبہ ہے صدف
علی علی
میری عزت میری دستار بھی عشق حیدر
میری خاموشی بھی گفتار بھی عشق حیدر
ہے میری ڈھال بھی تلوار بھی عشق حیدر
دوستی کا میری معیار بھی عشق حیدر
جنت میں علی علی، تربت میں علی علی، سنگت میں علی علی
علی مولا، علی مولا، علی مولا، علی مولا
دشمن فاطمہ زہرا ہے فقط میرا ہدف
دل کے ہر ساز کی دھڑکن میں علی رہتا ہے
میری آواز میرے من میں علی رہتا ہے
بھیروی میں میرے ایمن میں علی رہتا ہے
دل کی دھمال کی جھن جھن میں علی رہتا ہے
عرفانم علی علی، قرآنم علی علی، ایمانم علی علی
علی مولا، علی مولا، علی مولا، علی مولا
ایک ہی در پہ سدا رہتا ہوں کشکول بکف
لفظ و معانی ہیں نہ ابجد ہے علی سے آگے
کوئی منزل ہے نہ مقصد ہے علی سے آگے
شہر توحید کی سرحد ہے علی سے آگے
صرف بندوں میں محمد ہے علی سے آگے
تاروں میں علی علی
پاروں میں علی علی
یاروں میں علی علی
ذکر حیدر ہی تکلم ہے زباں کا مصرف
وہاں قدم کا ہے کیا کام اے ادب توبہ
سروں سے چلنے کے قابل ہیں کوچہ ہائے نجف
ملی یہ انگوٹھی بھی ویسی ہی تھا نگیں جیسا
نجف برائے علی تھا علی برائے نجف
ادھر سے کوشش کامل ہے اور ادھر سے کشش
انیس ہم نہ رہیں گے کہیں سوائے نجف
میری پرواز سے کوتاہ نظر جلتے ہیں
لوگ کچھ کر نہیں سکتے ہیں مگر کرتے ہیں
یاعلی کہہ کے وہاں سے میں گزر جاتا ہوں
جہاں جاتے ہوئے جبریل کے پر جلتے ہیں
دانائی علی علی، سچائی علی علی، دارائی علی علی
بادشاہوں کو بھی حاصل نہیں ہوتا یہ شرف
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.