Hussain Teri Qasam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Jaun Rizvi
روز ازل سے روز ابد اس کے بعد بھی
زندہ رہے گی روشنی نام حسین کی
چودہ سو سال بعد بھی شدت نہ کم ہوئی
بڑھتا ہی جا رہا ہے ترا غم صدی صدی
کھائی یہ ماں کی گود میں پہلی قسم حسین
مر کے بھی دل سے ختم نہ ہوگا یہ غم حسین
واللہ واللہ یاحسین یا ابا عبداللہ
ہم کو پابند کریں لاکھ زمانے والے
کب ترے عشق سے ہم باز ہیں آنے والے
سر پہ باندھیں گے کفن گھر سے نکل آئیں گے
تیرے عباس کے پرچم کو اٹھانے والے
کم نہ ہوگا غم ترا حسین تیری قسم
نام لیں گے ہم ترا حسین تیری قسم
تھام کر علم ترا حسین تیری قسم
تیری قسم یاحسین
واللہ واللہ یاحسین ثار اللہ
جب دیا تو نے بجھایا تھا شب عاشورہ
چھوڑ کے تنہا تجھے کوئی بھی ناصر نہ گیا
جنگ سے پہلے ہی دل جیت چکا تو سب کے
دیکھ کے تجھ کو علی اور محمد نے کہا
صحابی ترے حسین تیری قسم
ایسے کے کب ملے حسین تیری قسم
ڈرتے نہیں موت سے حسین تیری قسم
تیری قسم یاحسین
واللہ واللہ یاحسین یا ابن رسول اللہ
ہر برس تیرے لئے چہرے پہ مٹی مل کے
کربلا جاتے ہیں زوار نجف سے چل کے
نا ہی چہرے پہ تھکاوٹ نہ طلب راحت کی
منتظر ہوتے ہیں وہ لوگ بس اس ہی پل کے
آئے گی جب کربلا حسین تیری قسم
دیکھیں گے روضہ ترا حسین تیری قسم
ہوں گے نہ تجھ سے جدا حسین تیری قسم
حسین تیری قسم، تیری قسم یاحسین
تیری قسم یاحسین
حج کو عمرے میں بدل کر تو چلا جب مولا
دے کے آواز تجھے خانہء رب کہنے لگا
تو حسین ابن علی ہے تو مرا وارث ہے
کربلا ساتھ مری روح کو بھی لیتا جا
چھوڑ کے مت جا یہاں حسین تیری قسم
کون ہے میرا یہاں حسین تیری قسم
اب نہیں رہنا یہاں حسین تیری قسم
تیری قسم یاحسین
تیری قسم یاحسین
ہم کریں گے ماتم حسین تیری قسم
اونچا ہوگا پرچم حسین تیری قسم
یہ نمازوں کا سفر حسین تیری قسم
یہ تلاوت کا اثر حسین تیری قسم
جاری رکھیں گے ہم حسین تیری قسم
بچھے گا فرش عزا حسین تیری قسم
ہوگی مجلس برپا حسین تیری قسم
ترے بابا کی ولا مقصد کرب و بلا
تیری قسم یاحسین
تیرے اکبر کا جگر تیرے اصغر کا گلا
بافا کے بازو اور زینب کی ردا
وہ تیرا زخمی بدن اور تیروں کی چبھن
بھول نا پائیں گے ہم حسین تیری قسم
یاد رکھیں گے یہ غم حسین تیری قسم
جب تلک دم میں ہے دم حسین تیری قسم
تیری قسم، تیری قسم یاحسین
تیری قسم یاحسین
روز عاشور صدا دینے لگی کرب و بلا
حوصلہ ایسا نہیں دیکھا کسی بھی ماں کا
رن سے جب عون و محمد کے جنازے آئے
اپنے بھائی کی طرف دیکھ کے زینب نے کہا
ہوتے اگر اور بھی حسین تیری قسم
سر پہ ترے وارتی حسین تیری قسم
روتی نہ زینب کبھی حسین تیری قسم
تیری قسم یاحسین
تیری قسم یاحسین
ہائے افسوس بہن دیکھ رہی تھی منظر
جب چلا رن میں تری خشک رگوں پر خنجر
دشت میں گھوڑوں سے لاشہ ترا پامال ہوا
عصر عاشور ڈھلی آگیا سر نیزے پر
بولی بہن دیکھ کے حسین تیری قسم
وعدہ ہے بھائی مرے حسین تیری قسم
مرنے نہ دوں گی تجھے حسین تیری قسم
تیری قسم یاحسین
تیری قسم یاحسین
جون و ذیشان کے ہونٹوں پہ یہی نعرہ ہے
تو مرا دل تو مری جان مرا مولا ہے
مر گیا کب کا یزید آج بھی زندہ ہے حسین
سر کٹا کر بھی ترا نام سدا اونچا ہے
کہتا ہے خود یہ خدا حسین تیری قسم
ہو نہ سکا جو ترا حسین تیری قسم
ہو نہیں سکتا مرا حسین تیری قسم
تیری قسم، تیری قسم یاحسین
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.