Ghareeb Ka Ghareeb Sar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Syed Reza Abbas Zaidi
کبھی یہ شیریں کے گھر ملا ہے کبھی یہ راہب کے گھر گیا ہے
کبھی شجر پہ رسن سے باندھا کبھی یہ صندوق میں رکھا ہے
نہ جانے اس کا سفر ہے کیسا نہیں ہے مظلوم کوئی ایسا
غریب کا یہ غریب سر ہے جو دربدر ہے
ہے ریش جس کی لہو میں ڈوبی
رگیں بھی سوکھی ہوئی ہیں جس کی
بھری ہے زلفوں میں خاک ہائے
چلا تھا جس وقت اس پہ خنجر
تھا گود میں فاطمہ کی یہ سر
کھڑی تھیں ستر قدم پہ زینب
کٹے ہیں لب اور جبیں ہے زخمی
عیاں ہیں چہرے سے غم بلا کے
ہو جیسے مارا رلا رلا کے
گرایا یہ سر جب زمین پہ کٹ کر
اٹھایا زلفوں سے شمر نے سر
ٹپک رہا تھا لہو زمیں پر
سوار نوک سناں پہ ہو کر
چلا ہے کرب و بلا سے یہ سر
نظر ہے اکبر کے سر کی جانب
نظر پڑے جب بہن کے سر پر
پکارے عباس کو تڑپ کر
طمانچے جب بھی سکینہ کھائے
عجیب غربت کا ہے یہ منظر
کرے یہ اکبر سے جب بھی باتیں
تو خون روتی ہیں اس کی آنکھیں
زمیں پہ گر جائے ہائے یہ سر
کوئی جو عابد پہ ظلم ڈھائے
پکارے نیزے سے ہائے ہائے
گری تھی ناقے سے جب سکینہ
وہیں یہ سر بھی ٹھہر گیا تھا
نظر نہ آئی جب اس کو بیٹی
یہ سر جو خولی کے ہاتھ آیا
عجیب ظالم نے ظلم ڈھایا
گھر اس کے زہرا تڑپ کے پہنچیں
تڑپ کے زینب کی سمت دیکھا
کہا یہ زینب سے جلد جاؤ
میری سکینہ کو ڈھونڈ لاؤ
جب اس نے تندور میں چھپایا
کہے جو زہرا نے بین رو کر
تڑپ رہا تھا حسین کا سر
ستم یہ دربار میں ہوا تھا
غریب سر طشت میں رکھا تھا
یزید دندان شاہ دیں پر
ہے شام کی قید کا یہ منظر
ملا سکینہ کو باپ کا سر
رضا و ذیشان تھی قیامت
چھڑی کو ہنس ہنس کے مارتا تھا
سکینہ عابد کو دیکھتی تھیں
پدر کی غربت پہ رو رہی تھیں
کہا سکینہ نے جب لپٹ کر
نصیب کیا ہو گیا ہمارا
ہے میرے سینے پہ سر تمہارا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.