Shabir Kamar Thaam Ke Dete Rahe Sada Alamdar Ho Kahan
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Fahim Ali
شبیر کمر تھام کے دیتے رہے صدا علمدار ہو کہاں
امداد کرو آکے میری میرے باوفا علمدار ہو کہاں
ہر لاش اٹھائی ہے ضعیفی میں علمدار
مقتل میں اکیلا ہوں میرے مونس و غمخوار
مشکل ہے سنو تم سے جدائی کا مرحلہ علمدار ہو کہاں
کچھ پل میں غریبی بھی پڑھے گی میرا نوحہ
جانے سے تیرے مجھ پہ قیامت ہوئی برپا
صحرا میں نبوت کا بکھر جائے گا کنبہ علمدار ہو کہاں
کہتی ہے نبی زادی، نبی زادی سے مل کر
قاسم ہے کہاں ہے کہاں بھیا علی اکبر
اب کون بچائے گا میرے بعد یہ پردہ علمدار ہو کہاں
احساس یتیمی سے تڑپ جاتی ہے بی بی
روتی ہوئی سینے میں سمٹ جاتی ہے بی بی
پہلو میں پڑا رہتا ہے ٹوٹا ہوا کوزہ علمدار ہو کہاں
کہتی ہے نبی زادی میری بات یہ مانو
بھیا میرے پردے کے محافظ کو بلاؤ
دل میرا تڑپتا ہے لبوں پر ہے یہ نوحہ علمدار ہو کہاں
غازی میری غربت یہ صدا دیتی ہے رو کر
دیکھو میری آنکھوں سے ذرا آکے یہ منظر
مقتل میں محمد کا نواسہ ہوا تنہا علمدار ہو کہاں
یاور فہیم جان پیمبر کا یہ نوحہ
جاتی ہے جان جائے ہر حال میں پڑھنا
نوحوں کی صداؤں میں صدا تم بھی لگانا علمدار ہو کہاں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.