Abad Wallah Ya Zahra Ma Nansi Husaina
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Nadeem Sarwar
تین شعبان صدائے کونین مرحبا صل علی ہو گیا ظہور مولا حسین۔ آغوش فاطمہ سے حسین آغوش رسالت میں آئے۔ حسین دیکھ کے نانا کو مسکراتے ہیں۔ مگر یہ کیا ہوا چشم رسول اکرم سے خوشی کے وقت بھی آنسو ٹپکتے جاتے ہیں۔ سوال کر دیا زہرا نے اے میرے بابا اداس کیوں ہوئے۔ کیوں سوگوار ہے چہرہ؟ کہا رسول نے زہرا میں خوش ہوا۔ یہ تیرا لال میرے دین کو بچائے گا۔ میں رویا اس لئے زہرا وطن سے دور اکیلا پیاسا غربی میں مارا جائے گا۔ اور اس قیامت میں نہ میں نہ تم نہ علی ہونگے نہ حسن ہوگا نہ کوئی پیارا نہ اپنا ہوگا۔ کنارے نہر کے بے گورو بے کفن ہوگا۔ تڑپ کے پوچھا نبی سے حسین کی ماں نے تو میرے بابا بھلا اس پہ کون روئے گا؟ کہا رسول نے زہرا فکر نہ کر بیٹی خدا کی سمت سے موجود ایک قبیلہ ہے۔ جو اس کو روئے گا تا حشر اس کا وعدہ ہے۔ جو نہ حسین کو بھولے گا نہ حسین اس کو بھولے گا۔ سارے جہان سے ان کی مسلسل صدا ہوگی۔ حسین، حسین، حسین، حسین، حسین، حسین
وعدہ ہے ہمارا یا فاطمہ زہرا نہیں بھولیں گے حسینا
قسم اللہ کی وہ جس نے ہمیں خلق کیا
اور ہمیں کرب و بلا کے لئے مخصوص کیا
ہم وہی لوگ ہیں واللہ دعائے زہرا
اس نے ہل من جو کہا ناصر ینصرنا
ہم نے لبیک کہا
اس نے ہم کو نہ بھلایا ہم نے اس کو نہ بھلایا
یا علی آپ کے ہر رنج و مصائب کی قسم
آپ کے غم کی ہے مقروض یہ نسل آدم
چودہ صدیوں سے مسلسل ہے عزا و ماتم
گو کے ہر چند ہوئے ہاتھ قلم پاؤں قلم
زائر کرب و بلا کے نہ رکے پھر بھی قدم
بولے سرکار محمد میں شفاعت دونگا
بولے حیدر کے میں کوثر کی بشارت دونگا
اور حسن بولے میں سردار ہوں جنت دونگا
بولیں زہرا تیرا وعدہ ہے شہادت دونگا
میں بھی جنت میں نہ رکھوں گی قدم میرے حسین
جب تلک خلد میں جائیں نہ عزادار حسین
امام حسین، امام حسین
آتی ہے فاطمہ زہرا کی صدا میرے
اے عزادارو سنو اے عزادارو سنو
اے عزادارو نہ جب تم بھولے مجھ کو
بھول جائے تمہیں زہرا کیسے
مجھ پہ کیا کیا نہ مصائب ٹوٹے نہیں
حسین، حسین، حسین، حسین، حسین، حسین
میرا دوبارہ جلایا گھر لوگو
پہلو پہ گرا در لوگو
داغ محسن ہے جگر پر لوگو
دربار بلا کر لوگو
کاٹا ہے قلب پیمبر لوگو
بھولیں گے یا زہرا
نہ میں عباس علمدار کے بازو بھولی
نہ میں زینب کا تڑپنا کسی پہلو بھولی
گرد آلود سکینہ کے نہ گیسو بھولی
نہ ہی سجاد کے خون رنگ وہ آنسو بھولی
نہیں بھولیں گے یا زہرا
اپنے بچوں کے رفیقوں کو بچھڑتا دیکھا
خاک پہ عون و محمد کو تڑپتا دیکھا
میں نے ٹکڑے ہوئے قاسم کا جنازہ دیکھا
ایڑیاں خاک پہ اکبر کو رگڑتا دیکھا
میں نے اصغر کا گلا تیر میں الجھا دیکھا
جس گھڑی لال میرا زین سے ریتی پہ گرا
تیرہ ضربوں سے میرے سامنے سر اس کا کٹا
حسین، حسین، حسین، حسین، حسین، حسین
ہائے پھر شام غریباں نے مجھے لوٹ لیا
وہ ردا میری تھی اعدا نے جسے لوٹ لیا
میں نہ بھولوں گی وہ بازار
ہائے وہ شام کا دربار
نہیں بھولوں گی وہ زندان
ہائے میرا عابد بیمار
زہرا نہیں بھولیں گے، واللہ نہیں بھولیں گے
شبیر کی غربت کو، نیزے پہ تلاوت کو
عباس کو اکبر کو، قاسم، علی اصغر کو
جلتے ہوئے خیموں کو، چھنتی ہوئی چادر کو
زینب کی شجاعت کو، عابد کی قیادت کو
زہرا نہیں بھولیں گے، واللہ نہیں بھولیں گے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.