Qaim Rahe Yeh Majlis O Matam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Mir Hasan Mir
قائم رہے یہ مجلس و ماتم خدا کرے
تازہ رہے دلوں میں محرم خدا کرے
للہ آنسوؤں سے نہ خالی کبھی رہیں
اشک غم حسین سے آنکھیں بھری رہیں
رومال سیدہ کا رہے نم خدا کرے
صحن حرم میں اہل عزا کی رسائی ہو
غیبت نشیں کے ہاتھ سے پرچم کشائی ہو
لہرائے بام کعبہ پہ پرچم خدا کرے
ماتم دبا نہ پائے دھماکوں کی بھی صدا
رکنے نہ پائے مجلس و ماتم کا سلسلہ
بن جائیں ہم شہیدوں کے محرم خدا کرے
تابوت، ذوالجناح، علم، جھولا، تعزیہ
ان پر جو اعتراض کرے خود ہے بے وفا
اپنا رہے عقیدہ مسلم خدا کرے
وہ ہی رہے جو اپنے بزرگوں کا تھا چلن
اک انجمن ہٹے تو بڑھے ایک انجمن
ہو ہر جلوس ایسے منظم خدا کرے
ہر ماتمی کے دل میں یہ ارمان ہے بسا
پیدل نجف سے جب ہو سفر اربعین کا
قائم کے ساتھ ساتھ چلیں ہم خدا کرے
جنت سجائیں پیاسوں کے صدقے زمین پر
خواہش ہے سب کی موکب ام البنین پر
خدام زائرین بنیں ہم خدا کرے
رہتا ہے سال بھر کسی بی بی کو انتظار
قاسم کی مہندی جائے جو لے کر یہ پرسہ دار
ماتم سے گونجے پھر سے مخیم خدا کرے
دیکھا ہے جب سے ماہ عزا دل ہے بے قرار
صغری مدینے والوں سے کہتی ہے بار بار
ہو خیریت سے شاہ معظم خدا کرے
مقتل میں جس نے خاک پہ رگڑی تھیں ایڑیاں
سیراب اس کی پیاس کے صدقے ہو یہ جہاں
بٹتا رہے سبیلوں سے زم زم خدا کرے
عصیاں سے حشر تک میری فرد عمل ہو پاک
ہر دم یہی دعا ہے تکلم یہ میری خاک
خاک در حسین میں ہو ضم خدا کرے
ٹیلے پہ ہے کھڑی ہوئی مظلوم کی بہن
خنجر تلے حسین کے لب پر ہے یہ سخن
زینب نہ دیکھے نزع کا عالم خدا کرے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.