Ek Hath Apne Zakhmi Pehlu Se Hata Kar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Azaadar-e-Batool, Ali Abbas Khako
اک ہاتھ اپنے زخمی پہلو سے ہٹا کر
سینے سے اپنے لاشہ مظلوم کا لگا کر
کرتی تھیں بین زہرا مقتل میں خاک اڑا کر
صحرا میں تجھ کو مارا لاکھوں نے ہے ستا کر ہائے میرے حسین
کوئی تیر مارتا تھا کوئی نیزہ کوئی پتھر ہائے میرے حسین
زخموں سے چور سارا مظلوم کا بدن تھا
گرمی میں خون سے تر پیاسے کا پیرہن تھا
پانی نہیں پلایا کسی نے بھی تجھ کو آ کر ہائے میرے حسین
میرے لال تو نے میری چھوڑی ہے قبر جب سے
میری روح ہمسفر ہے ترے ساتھ ساتھ تب سے
مقتل میں تیرے تجھ کو تنہا میں چھوڑوں کیونکر ہائے میرے حسین
سر پیٹتی رہی میں پہلو سے ہاتھ اٹھا کے
جب اک شقی نے تیرے پہلو کے پاس آ کے
پہلو میں تیرے نیزہ مارا تجھے رلا کر ہائے میرے حسین
اے ماں کے دل کی ٹھنڈک غم کھا گیا یہ تیرا
منظر یہ دیکھتے ہی دل پھٹ گیا تھا میرا
جب تیر اک لعیں نے مارا تھا تیرے دل پر ہائے میرے حسین
بیٹے کو ذبح ہوتا کب ماں ہے دیکھ سکتی
خنجر رواں تجھ پر اور میں بھی تھی تڑپتی
ماں نے بھی اپنی گردن رکھی تھی زیر خنجر ہائے میرے حسین
مقتل سے دور تجھ کو وہاں زین سے گرایا
اور بالوں سے پکڑ کر یہاں شمر لے کے آیا
روئے کہاں کہاں پر تجھے جا کے تیری مادر ہائے میرے حسین
ماں دیکھتی تھی بیٹا جب زین سے گرا تھا
پاؤں رکاب میں اک تیرا الجھ گیا تھا
روکا تھا مرتجز کو میں نے باگوں سے پکڑ کر ہائے میرے حسین
زینب کے ساتھ میں بھی صحرا میں رو رہی تھی
جب لاش تیری رن میں پامال ہو رہی تھی
دوڑائے شامیوں نے گھوڑے ترے بدن پر ہائے میرے حسین
کرتا اسد پسر کا محشر میں لائیں گی جب
خالق کو خون شہ کا زہرا دکھائیں گی جب
محشر میں ہوگا محشر جب وہ کہیں گی رو کر ہائے میرے حسین
پیشانی بھی ہے زخمی ابرو تلک کٹے ہیں
رخساروں کی طرح سے ترے ہونٹ بھی پھٹے ہیں
دندان بھی ہیں ٹوٹے منہ سارا خوں سے ہے تر ہائے میرے حسین
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.