Suno Zainab Ki Sana Suno Zainab Ki Sana
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Zainab (s.a) recited by John Rizvi
زینب کی ثنا سننے کو خاموش ہیں سارے
خود اہل فلک بھی ہمہ تن گوش ہیں سارے
مادر کی طرح بیٹی بھی ہے نور کا پیکر
وہ بنت پیمبر تو یہ حیدر کی ہے دختر
خلقت میں یہ انوار الہی کا ہے جوہر
پاکیزہ حسب عالی نسب نسل پیمبر
تخلیق میں فخر شہہ لولاک ہے زینب
تطہیر میں زہرا کی طرح پاک ہے زینب
دل سب کا سر عرش اگر ہے تو سنیں پھر
ہے کس کی یہ مدحت یہ خبر ہے تو سنیں پھر
ممدوح کی عظمت پہ نظر ہے تو سنیں پھر
جبریل سا سینے میں جگر ہے تو سنیں پھر
یہ بات ہے باتوں میں بڑی بات زباں پر
کچھ مدحت زینب سے ہیں آیات زباں پر
شعبان کی پہلی کا یہ دن کتنا ہے پیارا
نورانی حجابات سے اللہ نے سنوارا
اس دن علی پہ حضرت زینب کو اتارا
اس دن کی طرف دیکھ کے کعبہ یہ پکارا
حیدر کی طرح یہ مری امید کا دن ہے
اللہ و پیمبر کے لیے عید کا دن ہے
زینت ہے علی رب کی، علی کی ہے یہ زینت
قوت ہے علی رب کی، علی کی ہے یہ قوت
عصمت ہے علی رب کی، علی کی ہے یہ عصمت
عزت ہے علی رب کی، علی کی ہے یہ عزت
زینب کی حقیقت کو کوئی پائے تو کیسے
سدرہ سے کوئی آگے بھلا جائے تو کیسے
آ کر علی کی گود میں لب کھول کے بولی
بولے جو علی وہ ہی زباں بول کے بولی
قرآن کے لہجے کی گرہ کھول کے بولی
کچھ اس طرح لفظ اپنا ہر اک تول کے بولی
نطق جلی میں نطق علی تولوں گی اک دن
اللہ کے علی کی طرح میں بولوں گی اک دن
کی ہے جو رسالت کی ولایت کی وکالت
زینب نے بچائی ہے جو گل نبیوں کی محنت
کاندھوں پہ اٹھاتی رہی جو بار امامت
ثابت اسی سے ہوتی ہے اس بی بی کی عظمت
نبیوں کی مدد کے لیے امداد علی ہے
یہ بارہ اماموں کے لیے ناد علی ہے
وہ کاٹ تھی کہ تیر و تبر کاٹ کے آئی
بیعت کے پرندے کے بھی پر کاٹ کے آئی
اتری سروں میں اور جگر کاٹ کے آئی
شیر پہ اٹھی جو نظر کاٹ کے آئی
شمشیر خطابت نے غرور ایسے اڑایا
سر سامنے زینب کے کوئی اٹھ نہیں پایا
گر چاہتی تو اپنی شجاعت تو دکھاتی
قادر تھی تو اس پر کہ علی بن کے بتاتی
اک وار میں نو لاکھ کے سر دھڑ سے اڑاتی
تلوار ترے واسطے بھی عرش سے آتی
مستور تھی، بنت علی مجبور نہیں تھی
تلوار ترے ہاتھوں سے کچھ دور نہیں تھی
پیغام زمانے کو ہے زینب کا سناتا
اور نام سے زینب کے ہے ظالم کو ڈراتا
گر کوئی یزید اٹھے یہ اس کو ہے گراتا
ہر شمر صفت فکر کو اب تک ہے مٹاتا
یہ لڑ جو رہا ہے حق و باطل کی لڑائی
اسلام کو ہے حضرت زینب نے سکھائی
عاشور کا وہ روز وہ ہر سمت تباہی
اس حال میں بھی ذکر الہی نہیں بھولی
سجدے بھی ادا کرتی تھی ماتم بھی تھی کرتی
دونوں پہ عمل بی بی کا بتلاتا ہے یہ ہی
ماتم کی نمازیں تھیں جو ہر وقت ادا کیں
جو رب کی نمازیں تھیں وہ بر وقت ادا کیں
کیوں جون و اسد تم ہو پریشاں یہاں آؤ
چوکھٹ ہے یہ بی بی کی یہاں سر کو جھکاؤ
خود بخت یہاں بدلیں گے تم دیکھتے جاؤ
حاجت ہے کوئی دل میں تو بی بی کو بتاؤ
جب معجزہ کرتی ہیں جدا کرتی ہیں زینب
جو مانگ لو ان سے وہ عطا کرتی ہیں زینب
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.