Ab Kahan Aise Alamdar Nazar Ate Hain
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Mir Sajjad Mir
وہ جو بچپن ہی سے جرار نظر آتے ہیں
اب کہاں ایسے علمدار نظر آتے ہیں
دیکھو مقتل میں جمال اور جلال عباس
دور سے حیدر کرار نظر آتے ہیں
میداں میں آ رہا ہے علمدار ہوشیار
اے لشکر یزید کے سالار ہوشیار
کہہ آؤ جا کے نہر کے اس پار ہوشیار
غازی نے دیں صدائیں خبردار ہوشیار
اب وہ بچے گا نہر سے اس دم جو ہٹ گیا
پھر یہ نہ کہنا سر میرا دھوکے سے کٹ گیا
نعره کیا کہ ہے عمر سعد تو کہاں
اب آگیا ہوں سامنے کیوں بولتے نہیں
کھولو نہ اب زبان کو کیوں کھولتے نہیں
پہلے تلے تھے تیغ کو کیوں تولتے نہیں
ہمت نہ ہو تو باتوں کا رس گھولتے نہیں
باقی اگر ہے شرم تو گھر جاؤ شامیوں
اس نہر میں ہی ڈوب کے مر جاؤ شامیوں
میں جانتا ہوں جتنے بڑے سورما ہو تم
اپنے بڑوں کی طرح بڑے بے وفا ہو تم
ہم رجس سے ہیں دور مجسم خطا ہو تم
فرار خاندان کے ہو اور کیا ہو تم
نو لاکھ میں کوئی تو اس عکاس سے لڑے
اک مرد بھی نہیں ہے جو عباس سے لڑے
پیدل گھروں کو جاؤ یہ راہوار بیچ کر
گھونگھٹ نکالو سر کی یہ دستار بیچ کر
ویسے بھی آئے تھے یہاں کردار بیچ کر
اب چوڑیاں خرید لو تلوار بیچ کر
تم میں کلا ہے کوئی نہ زور کلائی ہے
پھر کس لیے یہ تیغ کمر میں لگائی ہے
ساقی ہے ذکر آمد غازی کہاں ہے تو
سب باوضو ہیں تیرے شرابی کہاں ہے تو
بیٹھے ہیں سارے صف میں نمازی کہاں ہے تو
ان پر چھڑک دے آکے ذرا سی کہاں ہے تو
ہیں نوکران غازی انہیں رشک سے پلا
ساقی صراحی چھوڑ انہیں مشک سے پلا
ساقی علم کے سائے میں جا کر پیئیں گے ہم
سقے کی طرح سب کو پلا کر پیئیں گے ہم
ساقی قسم غدیر کی کھا کر پیئیں گے ہم
چھپ کر ہے پینا جرم دکھا کر پیئیں گے ہم
بس تیرے میکدے کا مطلب سا مزاج ہے
تیری شراب میں تو جگر کا علاج ہے
ساقی وہ دیکھ شیر نے شمشیر کھینچ لی
کٹ کٹ کے گر رہے تھے ستمگر ادھر ادھر
پتوں کی طرح فوج عدو کانپنے لگی
چلتی تھی تیغ تیزی سے سر سر ادھر ادھر
تھے غرق سارے سامری ڈر کی فرات میں
گویا عصا تھا حضرت موسی کے ہاتھ میں
اک شور تھا کہ دھوپ میں بجلی چمک اٹھی
پھرتی تھی موت صورت نوکر ادھر ادھر
بارش کی طرح رک گئی پھر تیز ہو گئی
تکتے تھے جبرائیل بھی شہپر ادھر ادھر
آتے ہیں جبرائیل کو وسواس کیا کریں
اوپر ہے سدرہ نیچے ہیں عباس کیا کریں
دلهن کی طرح رہتا ہے جوڑا بھی اس کا لعل
سارے نمک حرام ہیں تلوار پر حلال
منکر گرا کہ کہتی تھی گھوڑے سے تو سنبھال
سینے پہ چڑھ کے باقی جو دم ہے وہ اب نکال
ہرگز نہ دشمنان علی کو تو آڑ دے
یہ منہ بہت بناتے تھے چہرے بگاڑ دے
کہتی تھی تیغ شیر کی صورت شکار دو
مردار میں مزہ ہے کہاں جاندار دو
جا کر ہر اک رسالے میں یہ اشتہار دو
کرتا نہیں ہے ایک پہ عباس وار دو
یہ شیر جس پہ تیغ چلا کر گزر گیا
بے نبض دیکھے موت بھی کہتی تھی مر گیا
مردوں میں جا کے چھپ گئے مردہ ضمیر لوگ
سجاد تن چھپانے لگے سب شریر لوگ
دریا تک پہنچ کے رہے بے نظیر لوگ
رن میں لکیر پیٹ رہے تھے فقیر لوگ
بولے ابالحسن میرے عکاس زندہ باد
کہتی تھیں فاطمہ زہرا میرے عباس زندہ باد
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.