In Musafiron Ki Qabr Tum Banana
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Meethum Abbas
اے رونے والو سنو کیسی پر درد یہ روایت ہے
دو محرم کو سر کرب و بلا کاروان شہ مظلوم رکا
اک قبیلہ بنی اسد نامی ان سے مولا نے یوں خطاب کیا
میں نے یہ کربلا خریدی ہے کل یہاں پر لٹے گا گھر میرا
بے کفن لاشے سب پڑے ہوں گے قبر کوئی نہیں بنائے گا
اے بنی اسد والو
بعد مردوں کے کہا عورتوں سے مولا نے
اتفاقا جو تمہارا گزر ہو مقتل سے
جب میرے اقربا کے لاشے تمہیں آئیں نظر
اس گھڑی میری وصیت کو یاد کرتے ہوئے
بے کفن ہوں لاشے تم ردا اڑھانا
ان مسافروں کی قبر تم بنانا
جب کوئی نہ آئے تم ضرور آنا
پھر شہ کرب و بلا نے کہا یہ بچوں سے
التجا یہ ہے کہ عاشور جب گزر جائے
کھیلتے وقت بہانے سے تم ادھر آنا
اپنے ہاتھوں میں بیاباں کی خاک اٹھائے ہوئے
ساری میتوں کو خاک میں چھپانا
ان مسافروں کی قبر تم بنانا
ان مسافروں کی قبر تم بنانا
القصہ کہ عاشور کا سورج نکل آیا
ارے بے یارو مددگار تھا زہرا کا گھرانہ
انصار ہوں بھائی ہو پسر ہو کہ بھتیجا
ہر ایک کا لاشہ میرے مولا نے اٹھایا
روتے تھے حرم بیکس و مظلوم ہراساں
کربل کی زمیں بن گئی سب گنج شہیداں
پھر گیارہ محرم کو حرم بن گئے قیدی
تھیں بیٹیاں زہرا کی ردا سر پہ نہیں تھی
بس یہ سن کر اسدی پیر و جواں گھر سے چلے
پہنچے اپنے سنبھالے ہوئے مقتل پہنچے
گو کہ اس وقت سفر میں تھے مائل فریاد
آئے اعجاز امامت سے دشت میں سجاد
سجاد کو پہنائی گئی ہتھکڑی بیڑی
بچوں پہ سفر کرتی تھی شبیر کی پیاری
تھے پریشان کہ اب راہ دکھائے گا کون
کون سا لاشہ ہے کس کا یہ بتائے گا کون
رو کہ پھر کہنے لگے درد کا ستایا ہوں میں
اپنے پیاروں کو یہاں دفن کرنے آیا ہوں میں
مقتل کا بھی احوال سنو مومنوں رو کر
اب تیرہ محرم کا بیاں کرتا ہوں منظر
یک بیک دشت بیاباں میں اٹھا گرد و غبار
سب نے دیکھا کہ کوئی آتا ہے گھوڑے پہ سوار
وعدہ جو کیا تھا وعدہ وہ نبھاؤ
میں بتاتا جاؤں قبر تم بناؤ
پھر میرے مولا نے رو کر بنی اسد سے کہا
قبر تم کھودنے کی زحمتیں نہیں کرنا
جیسے میں آیا ہوں کل آئے تھے میرے نانا
قبریں مظلوموں کی سب کھودی جا چکیں واللہ
دیکھو میتوں کو ساتھ میرے آؤ
باپ کے سینے پہ بے شیر کا بھی لاشہ ہے
پھر میرا مولا یہ ان لوگوں کو سمجھاتا ہے
تھام کے قلب و جگر جانب نشیب چلے
باپ کی لاش بریدہ پہ بکا کرنے لگے
لاش پامال کے اعضا تو سبھی بکھرے تھے
مولا سجاد نے لوگوں سے کہا روتے ہوئے
میں سمیٹوں اعضا تم چٹائی لاؤ
دو قدم پیچھے ہٹو وقت قریں آتا ہے
کیوں کہ معصوموں کو معصوم ہی دفناتا ہے
سر کہاں بازو کہاں اور کہاں ہے سینہ
بین کرتے ہوئے پھر لاش کو ترتیب دیا
جس گھڑی سینہ شبیر پہ سر اپنا رکھا
آئی بے ساختہ سجاد کے ہونٹوں پہ بکا
بابا بابا وامصیبتا وابتاہ
میری بیکسی پہ اشک تم بہاؤ
میں بتاتا جاؤں قبر تم بناؤ
الغرض مولا میرا گنج شہیداں پہنچا
قاسم و عون و محمد کو وہیں دفن کیا
کر کے پھر جون و حبیب ابن مظاہر پہ بکا
دفن اکبر کو کیا کرتے ہوئے واویلا
ختم ہے مظہر و میثم کا یہیں پر نوحہ
کہہ چکے لاش علمدار سے جب حال اپنا
ایک ایک لاشہ میرا مولا اٹھا کر لایا
قبر جس کی تھی جہاں اس کو وہیں دفنایا
اب لب نہر گئے لاشہ چچا کا پایا
لاش کے ٹکڑے جمع کر کے بھی فرمایا
اسدی لوگوں کے ہمراہ اٹھایا لاشہ
ہائے عباس علمدار کو پھر دفنایا
آپ کے بعد چچا ایسی تباہی آئی
قتل بابا ہوئے اکبر نے سناں بھی کھائی
چادریں چھن گئیں جب شام غریباں آئی
اور پھر شام کے بلوے میں تھی زہرا جائی
آج بھی روضہ شبیر پہ وہ آتے ہیں
اسدی لوگ اسی رسم کو دہراتے ہیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.