Kehti Thi Yeh Sakina Zakhmi Hai Kyun Tu Itna
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Zuljana recited by Shahid Baltistani
کہتی تھی یہ سکینہ زخمی ہے کیوں تو اتنا
مقتل میں کیا ہوا بتا ذوالجناح
تیرے قدموں میں یہ رگڑ کر کہا تھا رخصت بابا کی سنا بھولی سکینہ
جا بابا کو میرے نا لے جا آخری بار جو سوئی سکینہ
بابا کو جو جانے دیا تھا آکر یہ خواب میں دادی پکاری
تیری وفا پہ تھا مجھ کو بھروسہ بھیجو حسین کو بالی سکینہ
تجھ کو غازی کی قسم رکھ لے وفا کا بھرم تب سے بچھڑی ہوں دیکھو جانے نا دیتی ان کو
کیوں لوٹا ہے بتا گر مجھ سے کہتیں نا زہرا
اتنا بتا دے کیوں گھبرایا ہے تو
کیوں میرے بابا کو چھوڑ آیا ہے تو
تیرے قدموں کی جب آواز آئی
میں یہ سمجھی بابا کو لایا ہے تو
نا غازی ہے نا بھیا ہائے بابا کا لاشہ
مقتل سے کون لائے گا تنہا
زہرا جانے یا اللہ جانے مجھ کو ٹاپوں کی جو آتی ہے صدا
میرے بابا تھے جانے کب سے پیاسے وحشت سے پھٹتا ہے کلیجہ میرا
آنکھیں تمہاری مجھ سے کہہ رہی ہیں چاروں طرف ہے ظالموں کا پہرا
مقتل سے تم بھی ہو پیاسے ہی لوٹے تنہا ہیں رن میں میرے پیاسے بابا
مجھ کو یقیں ہے بابا نے تم سے پہلے لاشہ پامال نا ہو جا کر بچا لے ان کو
کہاں پیا ہوگا میں بھی مر جاؤں گی ورنہ
غم کتنے ٹوٹے غریب الوطن پر یہ
نیزے چلے ہیں کیا ان کے بدن پر
سر تو اٹھا تیری آنکھوں میں دیکھوں
کیا کیا ستم ہوئے شاہ زمن پر
آنسو رواں ہیں تیرے بابا کہاں ہیں میرے
کیوں ہے خاموش یہ بتا پانی
کہتی ہے کربلا درویش و ذیشان
روتا رہا سر جھکائے ذوالجناح
کیسے سکینہ کے بابا کو لائے
چھانے لگی ہے اب شام غریباں
رکھ کہ قدموں میں سر کو رگڑ گیا پر وہ
سن کر سکینہ کا نوحہ
لوٹے نہ خیموں کو آ کر ستمگر
ہائے چھن جائے نہ پھوپھیوں کی چادر
کس کو پکاروں گی اتنا بتا دے
ظالم جب کھینچے گا کانوں سے گوہر
کون ہے اب ہمارا کوئی نہیں سہارا
لٹ جائے گا میرا کنبہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.