Ghareeb Zahra Ka Badan
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Syed Reza Abbas Zaidi
جو گرم ریتی پہ بے کفن ہے
غریب زہرا کا یہ بدن ہے
کیا ہے پامال اس کو رن میں
ہیں زخم ہی زخم اس بدن میں
نہیں ہے کوئی اٹھانے والا
بہت اکیلا ہے اس وطن میں
ادھر کی سب پسلیاں ادھر ہیں
ادھر کی سب پسلیاں ادھر ہیں
یہ وہ بدن ہے کہ جس کا سینہ
تھے شاہ مدینہ چومتے تھے
بھرا ہے تیروں سے ہائے غربت
کہاں پہ سوئے گی اب سکینہ
یہی وہ سینہ ہے جس پہ چڑھ کر
لعیں نے کاٹا حسین کا سر
ہوئی تھی وہ جن کی نال بندی
تھے عام گھوڑوں سے اور وزنی
جو گھوڑے دوڑے تھے اس بدن پر
کچلنا ان کی خصوصیت تھی
نہ جانے کس طرح ماں نے دیکھا
سموں کے نیچے غریب بیٹا
لعیں وہ بجدل تھا نام جس کا
سرہانے جب اس بدن کے پہنچا
انگوٹھی کس طرح لوٹتا وہ
تھا زخمی ہاتھوں پہ ورم اتنا
نہ اتری ظالم سے جب انگوٹھی
تو کاٹ کر لے گیا وہ انگلی
اکیلا لاکھوں سے زخم کھا کر
سوگیا جب ستم اٹھا کر
وہ اندھیرے بن میں اسی بدن سے
بہن نے پتھر ہٹائے آ کر
نہ جانے زینب نے کیسا دیکھا
غریب بھائی کا زخمی لاشہ
سروں کو نیزوں پہ جب چڑھایا
سر ایک چھوٹا سا مل نہ پایا
لعیں نے نیزہ زمیں پہ مارا
تو لاشہ اصغر کا ساتھ آیا
پدر کے زخمی بدن پہ رکھ کر
چلایا ننھے گلے پہ خنجر
کہیں پہ تلوار کے نشاں ہیں
کہیں پہ نیزے ہیں برچھیاں ہیں
لہو بھی زخموں سے رس رہا ہے
غریب کی زخمی ایڑیاں ہیں
بدن ہے یہ چاک چاک ہائے
بھری ہے زخموں میں خاک ہائے
پدر کے سینے پہ سونے والی
جب اس بدن کے قریب پہنچی
آ کے شمر لعیں نے دیکھا
پدر سے لپٹی ہوئی تھی بیٹی
پکڑ کے بالوں سے جب چھڑایا
بدن زمیں پر تڑپ رہا تھا
حسین کی جب لحد پہ جانا
رضا و ذیشان یاد رکھنا
بچھی ہے تربت میں اک چٹائی
یہ دل کی آنکھوں سے دیکھ لینا
وہیں یہ زخمی بدن رکھا ہے
صغیر سینے پہ سو رہا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.