Shaam Haaye Shaam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Wajeeh Hasan Zaidi
قید ہو کے جو کرب و بلا سے چلا اب وہی قافلہ شام میں آ گیا
ظلم سہتا ہے اور خون روتا ہے وہ نائب کبریا وارث مصطفی
شام کے راستے تنگ ہیں پہلے ہی ہائے دونوں طرف ہیں تماشائی بھی
اور تماشائیوں کی وہ طعنہ زنی جانے کیسے نبی زادیاں ہیں کھڑی کس طرح ہیں کھڑی
سر پہ چادر نہیں ہاتھ بھی ہیں بندھے کیسے پردہ کریں وارثان حیا
ہائے کس کس طرح سے ستاتے ہیں یہ دیکھ راہوں میں کانٹے بچھاتے ہیں یہ
گرم پانی چھتوں سے گراتے ہیں یہ خون عابد کو میرے رلاتے ہیں یہ ہائے رلاتے ہیں یہ
زینت مرتضی کہہ رہی ہے خدا کون ہیں ہم ذرا شامیوں کو بتا
جب ہوا شور لوگو ستاؤ انہیں باغیوں کے ہیں بچے رلاؤ انہیں
گھیر لو اور نیزے چبھاؤ انہیں ان کے وارث نہیں ہیں بتاؤ انہیں ہائے بتاؤ انہیں
کوئی لکڑی لیے کوئی پتھر لیے مارنے آ گیا ہائے زین العبا
اک جگہ بیچ بازار ایسا ہوا سر پہ عابد کے جلتا ہوا کچھ گرا
جس سے مولا کا میرے عمامہ جلا دیکھا زینب نے کیسے یہ منظر بھلا ہائے منظر بھلا
آگ عابد کے پھر سر تلک آ گئی ہاتھ تھے جو بندھے وہ ہٹا نہ سکا
دیر تک ہائے بازار سجتے رہے قیدی باہر شہر کے ہی روتے رہے
کب تلک جانے آصف حرم تھے کھڑے حکم تھا کوئی آرام کر نہ سکے ہائے کر نہ سکے
پھر منادی ہوئی سج گئی ہر گلی لے کے آجاؤ اب کنبہ مرتضی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.