Apne Hathon Se Chupa Leti Thi Apne Rukhsar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Wajeeh Hasan Zaidi
اپنے ہاتھوں سے چھپا لیتی تھی اپنے رخسار
جب بھی دوران سفر شمر کا نام آتا تھا
ہے انگلیوں کے نشاں سے میرا چہرہ نیلا
اب نہ سہہ پاؤں گی میں اور طمانچہ بھیا
رو کے کہتے ہوئے آ جاتی تھی پیش بیمار
اس غم و رنج سے للہ بچا لو مجھ کو
اپنے حلقے میں ذرا دیر چھپا لو مجھ کو
کہہ کے پھپھیوں سے لپٹ جاتی تھی شاہ کی غم خوار
تھر تھراتا تھا بدن بچی سہم جاتی تھی
خوف سے آنکھوں کے آنسو بھی چھپا لیتی تھی
بس اشاروں سے کیا کرتی تھی غم کا اظہار
کبھی کانوں کو چھپاتی تھی بہا کر آنسو
تھام لیتی تھی کبھی ہاتھوں سے زخمی پہلو
اس قدر ڈر تھا نہیں آتا تھا بچی کو قرار
خاک پر گرتی تھی غم اور بھی بھر جاتے تھے
تازیانے ہی ہر اک سمت نظر آتے تھے
خوف سے زرد ہوا کرتا تھا چہرہ ہر بار
کہتی تھی بیڑیوں والے اے میرے خاک نشیں
قیدیوں کی تو لحد پہ نہیں آتا وہ لعیں
بس بتا دو مجھے اتنا یہ بہن تم پہ نثار
سیلیاں گھڑکیاں دے دے کے لگائے نہ کہیں
پھر سے چلتے ہوئے ناقے سے گرائے نہ کہیں
کہتی تھی اب مجھے ناقے پہ نہیں کرنا سوار
قید خانے کے اندھیرے بھی گوارا ہیں مجھے
سامنا ہو نہ مگر پھر کبھی اس ظالم سے
ناتواں بھائی سے کرتی تھی فقط یہ اسرار
بے بسی دیکھ کے روتی تھی ہلال، آل نبی
اے وجیہہ دختر سرور کی عجب غربت تھی
پسلیاں دکھتی تھیں ہو جاتا تھا رونا دشوار
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.