Moula Ghadeer Ka
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Ghadeer recited by Kazmi Brothers
کیسے اثر نہ خون میں ہوگا غدیر کا
دل میں ہمارے بستا ہے مولا غدیر کا
دین خدا کو عشق علی نام مل گیا
کتنا حسین تر ہے خلاصہ غدیر کا
پتھر ہیں آسمان کے قبضے میں اور بھی
انکار بس یہ سوچ کے کرنا غدیر کا
مفتی کو قید کر کے اسی کی دکان میں
دل چاہتا ہے مار دوں تالا غدیر کا
وہ مے پلا کے جس میں نبوت کی بو ملے
آدم کو جس سے کھوئی ہوئی آبرو ملے
جس کا نشہ نجات کا سامان ہو گیا
جس کے نشے میں حسن امامت کی خو ملے
میں بھی پیوں تو مجھ کو خدا روبرو ملے
سلمان پی کے فخر سلیمان ہو گیا
اترا نہ اس کے دل سے خمار ولا کبھی
ساقی نے جس کو جام پلایا غدیر کا
میثم نے دار پر کہا سبحان یا علی
واللہ نشہ ہے کتنا ہی اعلی غدیر کا
سب بیشمار آنے لگیں گے شمار میں
محفل میں دیکھو چھیڑ کے قصہ غدیر کا
کیسے چبھے نہ چشم منافق میں سوچئے
یہ سارے ماتمی ہیں قبیلہ غدیر کا
محشر کی جون فکر ہے کیا تم ہو ماتمی
سینے پہ تم نے کھینچا ہے نقشہ غدیر کا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.