Khalqat e Shahzada Ali Akbar
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Rizwan Zaidi
جبریل جاؤ عظمت عمران لے کے آؤ
یاسین اور سورہ رحمن لے کے آؤ
الحمد اٹھاؤ لولو و مرجان لے کے آؤ
ایسا کرو کہ پورا ہی قرآن لے کے آؤ
اپنے کرم میں ساری کرامات گوندھ کر
اس کا بدن بناؤ میں آیات گوندھ کر
میں چاہتا ہوں میں دوسرا احمد بناؤں میں
میں چاہتا ہے حسن کی اک حد بناؤں میں
خوش قامتوں میں سب سے ہی خوش قد بناؤں میں
ہے جی میں کربلا کا محمد بناؤں میں
ایسا بناؤں جو مرے نازوں کا ناز ہو
سر تا قدم یہ پورے کا پورا نماز ہو
اکبر یہ چاہتا ہے کہ اکبر بناؤں میں
اپنے جمال ذات کا مظہر بناؤں میں
نور ازل کا نقش مکرر بناؤں میں
اک بار پھر رسول کا پیکر بناؤں میں
دوبارہ اپنے حسن کا جوہر بناؤں میں
میں ہوں علی سو اب علی اکبر بناؤں میں
بارہ امامتوں کی اکائی کو گوندھ کر بے مثل مصطفی کی ہے تصویر بے مثال تخلیق کے کمال کا حاصل وصول ہو
گل انبیاء کی ساری کمائی کو گوندھ کر اے موسی لاؤ طور سے وہ نور ذوالجلال شبیر نے جو مانگی دعا وہ قبول ہو
یعنی خود اپنی ساری خدائی کو گوندھ کر اے ابراہیم لاؤ رسولوں کا سب کمال روشن شعائے نور سے بیت بتول ہو
میں کبریا ہوں اپنی بڑائی کو گوندھ کر میرے حبیب لانا ذرا اپنے خد و خال یہ میرا شاہکار مکمل رسول ہو
ایسا بناؤں ذات کی جو حد دکھائی دے ان سب تجلیوں سے ہی اکبر سجاؤں میں مہکے گل بہشت سے گلشن بتول کا
ایسا ہو جو علی کو محمد دکھائی دے یوسف کا حسن لاؤ کہ پاؤں بناؤں میں جھولی میں ہو حسین کی بچپن رسول کا
مجھ کو یہ ذات حسن سجانے پہ فخر ہو ایسا بنے کہ خلق کا معیار داد دے
پائے حسین اس کو تو پانے پہ فخر ہو ہے جس کی یہ شبیہ وہ سردار داد دے
مجھ کو یہ شاہکار دکھانے پہ فخر ہو نور مبیں ہو عالم انوار داد دے
ایسا بنے کہ مجھ کو بنانے پہ فخر ہو ایسا کمال حیدر کرار داد دے
اپنے حسیں حبیب کی تنویر دیکھ کر تسبیح کی صدا ہو زمیں آسماں پر
میں خود کو خود بھی داد دوں تصویر دیکھ کر جاری ہو میری حمد علی کی زبان پر
چہرے میں اس کے چہرہ وحدت کا رنگ ہو
پیکر میں اس کے اوج ولایت کا رنگ ہو
قامت میں ہر اماموں کی قامت کا رنگ ہو
مثل رسول اس میں رسالت کا رنگ ہو
دہراؤں آج پھر میں کہانی رسول کی
میرا حسین دیکھے جوانی رسول کی
واحد کے ہر کمال کی وحدت بھی اس میں ہو اتنا بلند عرش کو چھو لے کھڑے کھڑے
نور ولا و نور امامت بھی اس میں ہو چھوٹے دکھائی دینے لگیں سب بڑے بڑے
حق تو یہ ہے کہ میری حقیقت بھی اس میں ہو حسن خدا کے اس میں نگینے بھی ہوں جڑے
عباس ذوالجلال کی ہیبت بھی اس میں ہو یوسف جو اس کو دیکھے تو سجدے میں گر پڑے
توار پر گرفت نہایت کمال ہو اتنا حسیں ہو لال شہ مشرقین کا
اس کی کلائی میں غضب ذوالجلال ہو یعقوب آ کے صدقہ اتارے حسین کا
میں باہنر ہوں اپنا ہنر میں دکھاؤں گا
آیات فجر سے رخ روشن سجاؤں گا
اس نور کو میں اپنی جلو میں جلاؤں گا
والشمس والقمر سے میں آنکھیں بناؤں گا
آواز ایسی ہو کہ جہاں گونجنے لگے
بولے تو مسجدوں میں اذاں گونجنے لگے
رضوان اور نور علی بولا یہ خدا
تخلیق کر رہا ہوں میں پھر آج مصطفی
ہوگی اک اور اس میں یہ عظمت کی انتہا
خلقت میں اس کی رکھوں گا میں عمر سیدہ
اکبر میرا ہو سورہ رحمن کی طرح
نازل کروں حسین پہ قرآن کی طرح
جبریل جا کے کر مرے مظہر سے مشورہ
میری طرف سے حیدر صفدر سے مشورہ
کر ہیبت و جلال پہ شبیر سے مشورہ
چہرے پہ کرنا زینب مضطر سے مشورہ
لینا ہے مشورہ یہ شہ مشرقین سے
سینہ ہو کیسا پوچھ یہ جا کر حسین سے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.