Tere Kinare Furat
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Nadeem Sarwar
تیرے کنارے فرات
برباد ہوئی میں ہائے واویلا
لوٹی گئی میں ہائے واویلا
قیدی بنی میں ہائے واویلا
غازی کے بازو تیرے کنارے
پانی کی خاطر کٹ کے گرے تھے
غمناک منظر بھولوں گی کیسے
وہ پیاسے بچے بے آب کوزے
مالک کوثر پانی کو ترسے
آنکھوں سے آنسو زہرا کے برسے
تیرے کنارے آیا جو گھر سے
پیاسے کے نیزہ گزرا جگر سے
تیرے کنارے خیمے ہمارے
افسوس یہ ہے لگنے نہ پائے
تو چپ رہی تھی سر کو جھکائے
فرط الم سے لب پر تھی ہائے
برچھی جگر پر اکبر نے کھائی
سوکھے لبوں تک تو کیوں نہ آئی
زنجیر کس نے تجھ کو پہنائی
مر گیا پیاسہ صغری کا بھائی
پیتا تو پیتا کتنا سا پانی
معصوم اصغر شہ کی نشانی
باقی ہے اب تک تشنہ دہانی
کیسی دکھائی ہے میزبانی
سبط نبی پر چلتا تھا خنجر
دیکھا تھا تو نے وہ بھی تو منظر
گھوڑے جو دوڑے لاشوں کے اوپر
فریاد کرتی تھیں میری مادر
خیر ہوا جو بھی تھا ہونا
قسمت میں تیری لکھا تھا رونا
تاحشر اب تو یونہی تڑپنا
مر گئی پیاسی بالی سکینہ
بے غسل لاشے تیرے کنارے
چالیس دن تک ایسے پڑے تھے
یہ بات کوئی اب تجھ سے پوچھے
کیا تھی عداوت سبط نبی سے
میرا تو سب کچھ لٹ گیا بن میں
اک اک سپاہی مر گیا رن میں
تیر لگے سرور کے بدن میں
اب ہے جدائی بھائی بہن میں
تیرے کنارے ریحان و سرور
پہنچے تو دیکھا پر درد منظر
ایک صدا ہے دوش ہوا پر
سیدانی کوئی کہتی ہے رو کر
شام سے لٹ کر آئی ہے زینب
داغ جگر پر لائی ہے زینب
شرمندہ تم سے بھائی ہے زینب
کھو کے سکینہ آئی ہے زینب
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.