Alamdar Alamdar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Meethum Abbas
بکھرے ہوئے لاشوں نے کہا ہائے حسینا عباس عباس
جب مشک سکینہ پہ لگا تیر ستم کا عباس عباس
گھوڑے سے گرا خاک پہ سقائے سکینہ
بے دست علمدار کو بے دینوں نے مارا
دریا پہ اٹھا شور علمدار علمدار
سقائے حرم سید و سالار علمدار
پہنچی یہ خبر خیمہء شبیر میں جس دم
شبیر کمر تھام کے کرنے لگے ماتم
یہ بین کیئے اے میرے غمخوار علمدار
جانے سے تیرے شہ کی کمر ٹوٹ گئی ہے
عباس تیرا رستہ بہن دیکھ رہی ہے
شبیر ہوئے جینے سے بیزار علمدار
سادات کو جب لوٹنے آئیں گے ستمگر
پھر کون بچائے گا تیری بہنا کی چادر
آجا میری چادر کے نگہدار علمدار
ہاتھوں میں لیے کوزے تڑپتے رہے پیاسے
اور پیاسوں کے حلقے میں سکینہ کے تھے نالے
پیاسوں پہ فدا ہو گیا غمخوار علمدار
نہر سے آ جاؤ چچا ہائے علمدار حسین
مجھے نہ تڑپاؤ چچا ہائے علمدار حسین
جب ہوئے دریا پہ قلم ہائے علمدار حسین
اس سے بڑا نہیں ستم ہائے علمدار حسین
بین سکینہ نے کیا ہائے علمدار حسین
کرتی ہوں میں یہ التجا ہائے علمدار حسین
بازوئے سقائے حرم ہائے علمدار حسین
رونے لگے شاہ امم ہائے علمدار حسین
اے ڈھارس شبیر ذرا آنکھیں تو کھولو
حسرت ہے کہ اک بار مجھے بھائی تو بولو
کیا یاد ہے بچپن کا تمہیں پیار علمدار
عباس کے نزدیک جو پہنچے شہ والا
سر بھائی کا یہ کہتے ہوئے گود میں رکھا
تم تو ہو میری فوج کے سالار علمدار
دیتی تھی یہی زینب دلگیر دہائی
میں تیرے سہارے پہ وطن چھوڑ کے آئی
کیوں چھوڑ کے جاتے ہو وفادار علمدار
قاسم بھی گئے عون و محمد بھی سدھارے
اکبر بھی چلے جائیں گے اب بعد تمہارے
کوئی نہ رہا سایہء دیوار علمدار
غازی کی شہادت پہ قیامت کا تھا منظر
کر سکتا نہیں کوئی بیاں میثم و مظہر
الفاظ کا لشکر ہے قلم دار علمدار
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.