Haan Main Alamdar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Nadeem Sarwar
علمدار علمدار باوفا عباس علمدار علمدار
دیکھو وہ ترائی میں ہے اک مرد وفادار
رکھے ہے علم دوش پہ پیاسوں کا طرفدار
ہے گونجی اسی شیر کی غازی کی یہ للکار
گر اجازت دے حسین عرش ہلا سکتا ہوں
اس علم سے نئی تاریخ بنا سکتا ہوں
میں علمدار حسین میں ہوں سالار حسین
میں وفادار حسین میں ہوں غمخوار حسین
ہاں میرا شاہ امم جان و دل حسین
ہاں میرا جاہ و حشم میرا بھرم حسین
شان شبیر ہے کیا آج بتا سکتا ہوں
تم کو آداب حسینی میں سکھا سکتا ہوں
میں ہو عباس علی میں وفاؤں کا ولی
بات جب میری چلی گونج اٹھا علی علی
ہاں میری وفا علی ادا علی صدا علی
ہاں میری عبا علی قبا علی نوا علی
میں اگر چاہوں تو اک حشر اٹھا سکتا ہوں
جلوہ حیدر کرار دکھا سکتا ہوں
میں تو آیا ہی نہیں جنگ لڑنے کے لیے
مشک بھرنی ہے مجھے پیاسے بچوں کے لیے
ہے یہ وعدہ ہے سکینہ سے نبھانا ہے مجھے
پانی لینا ہے کسی سے بھی نہ لڑنا ہے مجھے
مجھ کو لڑنا جو پڑا کیا ہوں بتا سکتا ہوں
گھاٹ سے لاکھوں کے لشکر کو بھگا سکتا ہوں
یہ مقدر ہے میرا یہ علم مجھ کو ملا
میں علمدار وفا حیدر کرب و بلا
یہ علم کھلا رہے اٹھا رہے سجا رہے
یہ علم جمع رہے ڈٹا رہے سدا رہے
اسی دریا پہ علم اپنا سجا سکتا ہوں
اور کٹے ہاتھوں سے پرچم یہ اٹھا سکتا ہوں
بھر کے مشکیزہ چلا جب علمدار وفا
آگئی فوج جفا گھر گیا مولا میرا
ہاں وہ مشکیزہ چھدا بازو کٹا پانی بہا
غازی ریتی پہ گرا شور قیامت تھا بپا
آئی غازی کی صدا جان لٹا سکتا ہوں
کیسے پانی کے بنا خیموں میں جا سکتا ہوں
آیا دریا پہ جری کانپ اٹھی فوج شقی
یہ ہے عباس جری یا ہے واقعی علی
بھاگ اٹھی فوج جفا غازی جدھر جدھر مڑا
جس کا منہ جدھر اٹھا بھاگا گرا نہیں رکا
بولا عباس جری تیغ اٹھا سکتا ہوں
کربلا میں تمہیں صفین دکھا سکتا ہوں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.