Teri ummat ne mere
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Mir Hasan Mir
تیری امت نے میرے در کو جلایا بابا
پھر وہ جلتا ہوا در مجھ پہ گرایا بابا
راکھ تھی شعلے تھے سہمے ہوئے بچے یا دھواں
میرے آنگن میں تھا اک شام غریباں کا سماں
در ہٹا کر مجھے فضہ نے اٹھایا بابا
تیری امت نے میرے۔۔۔
لوٹ کر آئی تو چہرہ بھی میرا زخمی تھا
میری زینب کو میری پیشی کا پہلا نوحہ
میرے بالوں کی سفیدی نے سنایا بابا
تیری امت نے میرے۔۔۔
لے چلے قیدی بنا کر جو علی کو دشمن
میں نے چھوڑا نہیں حیدر کی عبا کا دامن
تازیانوں نے مگر مجھ سے چھڑایا بابا
تیری امت نے میرے۔۔۔
بیٹھ کر پڑھتی ہوں مشکل سے نمازِ شب بھی
پھر بھی عباس کی خلقت کی دعا بھولی نہیں
جب بھی زخمی ہوئے ہاتھوں کو اٹھایا بابا
تیری امت نے میرے۔۔۔
زخمی حالت میں بھی دہلیز سے باہر آئی
اور علی ولی اللّٰہ بچا کر لائی
عہد جو میں نے کیا تھا وہ نبھایا بابا
تیری امت نے میرے۔۔۔
کونسا در ہے جہاں آپ کی بیٹی نہ گئی
بات سننا تو کجا یوں ہوئی عزت میری
کوئی دروازے سے باہر نہیں آیا بابا
تیری امت نے میرے۔۔۔
خود یہ دیکھا ہے تیرے شہر کی دیواروں نے
ایسی غربت تھی کہ ہاتھوں میں ستمگاروں نے
رسیاں باندھ کے حیدر کو پھرایا بابا
تیری امت نے میرے۔۔۔
جس جگہ آپ نے رک رک کے اجازت مانگی
وہاں گستاخ مسلمانوں نے بیعت مانگی
کوئی شعلے تو کوئی لکڑیاں لایا بابا
تیری امت نے میرے۔۔۔
عرش اور فرش پہ محسن ہوا کہرام بپا
جس گھڑی روکے ولایت کی شہیدہ نے کہا
مجھکو ہنس ہنس کے زمانے نے رلایا بابا
تیری امت نے میرے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.