Islam Sara Sadqa E Muslim Hai Momeno
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Farzandane Muslim recited by Saleem Mastan
مسلم کے ساتھ آئے تھے مسلم کے لاڈلے
لیکن یہ ظلم دونوں پدر سے بچھڑ گئے
جو راہبر ہیں خضر کے وہ دربدر ہوئے
جس جا قدم اٹھے اسی رستے پہ چل دیے
کچھ دیر رک کے دونوں نے دم اپنا بھرنا تھا
لیکن لعیں نے بھائیوں کو قید کرنا تھا
پیاسا شہید کر دیا مسلم کو عید پر
لاشہ پھرایا گلیوں میں اس کا ادھر ادھر
کوئی علی کی بیٹی کو جا کر کرے خبر
لو آج لوگوں ٹوٹی ہے عباس کی کمر
عباس کو حسین نے منظر دکھایا ہے
مسلم کا لاشہ چھت سے زمیں پر گرایا ہے
داروغہ نے جو قیدیوں کے چہرے کو تکا
چہرے کا نور نور محمد سا ہی لگا
پوچھا جو خاندان تو دونوں نے یہ کہا
حیدر کے ہم نواسے ہیں کچھ رحم ہم پہ کھا
سن کر علی کا نام وہ قدموں میں گر گیا
دے کر رہائی ظلم کی راہوں سے پھر گیا
زنداں میں قید ہو گئے مسلم کے گلبدن
بھوک اور پیاس سے ہوئے دونوں کے خستہ تن
پیروں میں بیڑیاں ہیں تو ہاتھوں میں ہے رسن
ہائے خزاں کی زد پہ رقیہ کا ہے چمن
مرجھانے لگ گئے ہیں یہ غازی کے پھول ہیں
مسلم کے لعل فدیہ ابن رسول ہیں
غش سے افاقہ ہوتے ہی گھر لائی دونوں کو
کہنے لگی تم آل محمد ہو تو سنو
خدمت کا اس کنیز کو موقع ہی بخش دو
میں پانی لے کے آتی ہوں تم دونوں وہ پیو
اتنے میں آیا حارث بد خو عذاب میں
بد مست تھا وہ بغض علی کی شراب میں
زنداں سے جب چھوٹے تو وہ تھا وقت نیم شب
اک در پہ آ کے رک گئے دونوں ہی جاں بلب
آواز سن کے گریے کی نکلی کنیز رب
دونوں سے پوچھا پیار سے رونے کا کیا سبب
مسلم کا نام لیتے ہی غم سے بکھر گئے
غش کھا کے یوں گرے کہ لگا کوچ کر گئے
کر کے ستم بھی چین سے بیٹھا نہ بدچلن
ملعون تھا وہ خار کہ پھولوں سے تھی چہن
تلوار تیز کرنے میں وہ ہو گیا مگن
اور خوں سے لال ہو گئے بچوں کے پیراہن
دم رک گیا تھا سینے میں چہرے بھی زرد تھے
تھے زخم تازہ اور بدن ان کے سرد تھے
آواز آئی کان میں بچوں کے رونے کی
حجرے میں دیکھا دونوں کو حالت بدل گئی
کھینچا پکڑ کے زلفوں سے دونوں کو اس گھڑی
اس ظلم پر بھی کیسے قیامت ٹھہر گئی
دالان تک وہ کھینچ کے دونوں کو لاتا ہے
رخسار پر لعین طمانچے لگاتا ہے
تلوار کو ہوا میں گھمایا لعین نے
دونوں یتیم خوف سے تھرا کے رہ گئے
دونوں بیک زبان یہ حارث سے کہہ اٹھے
سر دونوں کے وہ ساتھ ہی تن سے جدا کرے
ٹھکرا کے ان کی بات یوں مارا لعین نے
ایک ایک کر کے سر کو اتارا لعین نے
دریا کے پاس دونوں کو لے آیا وہ لعین
بچے جو کانپتے تھے تو تھراتی تھی زمین
یہ رات آخری ہے یہ دونوں کو تھا یقین
شکر خدا میں خاک پہ رکھ دی گئی جبین
بکھرے ہوئے ستاروں کو دیکھا زمین پر
حارث نے دونوں بچوں کو کھینچا زمین پر
احسان بعد ظلم عجب سانحہ ہوا
دریا میں جونہی لاشوں کو اس نے بہا دیا
لاشے بھی دونوں بچوں کے ہوتے نہیں جدا
کچھ دور پہنچے لاشے تو اک نور چھا گیا
دو ہاتھ نکلے دریا سے لاشوں کے واسطے
نانا کا پیار ہے یہ نواسوں کے واسطے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.