Nahrein Rawan Hain Faiz e Shah e Mashriqain Ki
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Mir Hasan Mir
نہریں رواں ہیں فیض شہ مشرقین کی
پیاسو پیو سبیل ہے نذر حسین کی
صرف شبیر کا در ہے جو یہ پھیلائے ہیں ہاتھ
ورنہ یہ لوگ کہاں مانگ کے کھانے والے
نام مولا پہ ہیں پانی جو پلانے والے
ہاں یہی لوگ ہیں فردوس میں جانے والے
فروا دیتی ہیں دعائیں سدا آباد رہیں
رو کے مہندی میرے قاسم کی اٹھانے والے
تیری راہوں میں بچھائیں گے فرشتے آنکھیں
فرش مظلوم کی مجلس کا بچھانے والے
دو کٹے ہاتھ تجھے گرنے نہیں دیں گے کبھی
چھوٹے حضرت کا علم گھر پہ لگانے والے
ہاتھ اٹھا کر تجھے دیتے ہیں دعا حر جری
پاؤں شبیر کے زائر کے دبانے والے
اک گزارش ہے کہ عباس کے لاشے پہ نہ جا
چادر زہرا کو نیزے پہ اٹھانے والے
ہے یقیں خلد میں وہ جائیں گے سب سے پہلے
رسیاں تھامے جلوسوں کو چلانے والے
جا شاہ کہتے تھے کہ جاؤ علی اکبر جاؤ
ہم نہیں لاشہ عباس سے جانے والے
در زندان پہ بیٹھی ہے سکینہ اٹھا جا
شاہ زادی تیرے بابا نہیں آنے والے
بننے کب دیتے تھے زندان سے باہر تربت
نیل چہرے پہ سکینہ کے بنانے والے
آخری وقت بھی آئی نہیں سائے میں رباب
ایسے دیکھے نہ کہیں وعدہ نبھانے والے
کیا اجازت ہے تکلم بھی تیرے ساتھ چلے
قبر زہرا پہ دیا جا کے جلانے والے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.