Aa Gayi Karb-o-Bala Qafila Roko Ghazi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Waaride Karbala recited by Mir Hasan Mir
راہوار حسینی جب ٹھہرا اور ایک قدم آگے نہ بڑھا
کچھ خاک اٹھا کے ہاتھوں میں عباس سے یہ مولا نے کہا
سر اپنا یہاں کٹوائیں گے اس خاک پہ ہم سو جائیں گے
آگئی کرب و بلا قافلہ روکو غازی
بس سفر ختم ہوا یہی مقتل ہے میرا قافلہ روکو غازی
اپنی منزل سے کہیں آگے نہیں جانا ہے
ہم کو سجاد نے بھائی یہیں دفنانا ہے
روتی بہنوں سے ہمیں یہیں ہونا ہے جدا
قافلہ روکو غازی
سن کے زہرا کی بکا جان چلی جاتی ہے
اس زمیں سے تو میرے خون کی بو آتی ہے
ماں کی آتی ہے صدا دل بھی کہتا ہے میرا
قافلہ روکو غازی
یہ زمیں پاؤں پکڑتی ہے میرے رک جاؤ
سر کھلے آئے تھے جبریل ابھی رک جاؤ
اے سکینہ کے چچا آگیا امر خدا
قافلہ روکو غازی
سونگھ کر خاک کو ایسی ہوئی رقت طاری
اناللہ ہوا شہ کے لبوں سے جاری
سجدہ شکر کیا مڑ کے بھائی سے کہا
قافلہ روکو غازی
دیکھو وہ چاند مجھے ایسے ہی خم ہونا ہے
اس ترائی میں میرا بازو قلم ہونا ہے
خوں میں ڈوبے گا یہاں اک بھتیجی کا چچا
قافلہ روکو غازی
مقتل عشق کی جو مانگے وہ قیمت دے دو
یہ زمیں نام پہ ہم شکل نبی کے لے لو
کون بستا ہے یہاں پوچھ لو جا کے ذرا
قافلہ روکو غازی
چھ مہینوں سے سفر میں ہے مسلسل اصغر
کان میں کہہ دے کوئی آگیا اب آخری گھر
تیر کھائے گا یہاں وہ میرا ماہ لقا
قافلہ روکو غازی
نام تم کرنا رقم سارے عزاداروں کے
اس جگہ آئیں گے اب قافلے زواروں کے
میرا ماتم ہو گا آئیں گے اہل عزا
قافلہ روکو غازی
ایک وہ دن تھا تکلم کہ علی کی بیٹی
بے ردا گیارہ محرم کو یہاں سے جو چلی
رو کے دیتی تھی صدا دختر شیر خدا
قافلہ روکو غازی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.