Hussainiyo Yeh Tum Pe Ho Gaya Lazim Jo Tum Hussaini Ho
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Nadeem Sarwar
حسینیو یہ تم پہ ہو گیا لازم جو تم حسینی ہو
اجل حسین کی صورت جیو علی کی طرح
کوئی حسینی کبھی موت سے نہیں ڈرتا
علی کا نام کبھی بے سکوں نہیں کرتا
علی کے بغض کا جو زخم ہے نہیں بھرتا
علی کا ماننے والا کبھی نہیں مرتا
حسینیو جوان پہ مرتا ہے وہ ہے شہید ہی کی طرح
حسینیو یہ تمہیں کربلا بتاتی ہے
جو قوم اپنے شہیدوں کو بھول جاتی ہے
قدم قدم پہ اجل سے فریب کھاتی ہے
پھر ایسی قوم کی قسمت میں بے ثباتی ہے
حسینیو کرو جو پیروی تو حر کی پیروی کی طرح
علی کے بچوں کو جو موت سے ڈراتا ہے
وہ اپنی فکر نجس سے فریب کھاتا ہے
علی کی راہ سے جو بھی قدم ہٹاتا ہے
نبی کا بیٹا بھی طوفاں میں ڈوب جاتا ہے
حسینیو نبی کے بیٹے اگر ہو رہو نبی کی طرح
علی کے جینے کا انداز کیا نرالا ہے
علی نے موت کو بھی رزق دے کے پالا ہے
خدا کے گھر میں شہادت بڑا حوالہ ہے
علی نے موت کو بھی مشکلوں میں ڈالا ہے
حسینیو حسن، حسین بھی زندہ رہے انہی کی طرح
جو حق پرست ہیں وہ سب غلام حیدر ہیں
نظر میں بدر و احد کے تمام منظر ہیں
جو حق پرست نہیں بزدلان خیبر ہیں
جو حق پرست ہیں ان کے جلے ہوئے گھر ہیں
حسینیو شعور حق کی ضرورت ہے قنبری کی طرح
انہی کے در پہ اجل آ کے ہو گئی مجبور
حیات و موت کا بنتا ہے ان کے گھر منشور
انہی کے لال بناتے ہیں صبر کا دستور
منافقت ہے ہمیشہ در حسین سے دور
حسینیو حقوق رکھتے ہیں سارے یہ داوری کی طرح
علی سے زندگی قاتل علی کا کیا چھینے
کہ جام شیریں جسے دست حیدری سے ملے
علی نے نیند سے بیدار کر دیا ہو جسے
علی سے زندگی وہ چھینتا بھلا کیسے؟
حسینیو اجل پہ کون گرا دہر میں علی کی طرح
سند غلامی کی دے دیں تو خلد مل جائے
یہ مسکرائیں تو مرجھایا پھول کھل جائے
زمیں کو غیظ سے دیکھیں فلک بھی ہل جائے
یہاں سے مانگنے دھڑکن نبی کا دل جائے
حسینیو کریم سب ہیں یہاں رب اکبری کی طرح
یہ کون جاتا ہے مرنے لہو لہو ہے بدن
فرش کے دوش پہ سورج کی جا رہی ہے کرن
جلال کہتا ہے یہ شخص تو ہے موت شکن
تڑپ رہی ہے در خیمہ پہ یہ کس کی بہن
حسینیو یہ کائنات لرزتی ہے تھرتھری کی طرح
حیات و موت کا یہ فلسفہ دیا کس نے؟
اجل کا جام خدا کے لیے پیا کس نے؟
یہ مرحلہ تھا کٹھن طے مگر کیا کس نے؟
ریحان اعظمی مر کے بتا دیا کس نے؟
حسینیو حیات و موت ہے بہتر حسین ہی کی طرح
یہ کس کے حلق پہ رک رک کے تیغ چلتی ہے
حیات روتی ہے اور موت ہاتھ ملتی ہے
زمین گرم سے اک آگ سی نکلتی ہے
یہ کس کی ماں ہے جو گرتی ہے اور سنبھلتی ہے
حسینیو یہ کائنات پہ چلتی ہے کیا چھری کی طرح
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.