Hussain Hai Na
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Mir Hasan Mir
خدا سے کہنے لگیں یہ زہرا حسین ہے نا
تیری شریعت کو کیسا خطرہ حسین ہے نا
جو دیکھا ماتھے پہ داغ سجدہ
تو شیخ سے بولی ان کی زوجہ
جناب سب خیریت تو ہے نا؟
طویل اتنا کیا ہے سجدہ
وہ بولے جل کر ارے وہ بچہ حسین ہے نا
جاؤ خیال چھوٹوں کا کس طرح سے
بڑوں نے رکھا ہے یہ بتانے تو
رسول زیر کساء تھے جس دم
ٹھہر کے پہلے نبی سے پوچھا حسین ہے نا
کہا خدا نے رسول جاؤ
جہان کو یہ اصول دے دو
حسین جب تک بھی پشت پہ ہے
تم اپنے سجدوں کو طول دے دو
تمہارا سجدہ بچا رہے گا حسین ہے نا
جلال میں جب علی کا بیٹا
جو تیغ علی کو تولے
بھگڈر تھی کربلا میں
سوار اک دوسرے سے بولے
ترے بھی پیچھے ارے بتا نا حسین ہے نا
خدا سے زینب کا تھا یہ وعدہ
یزید جتنا بھی دم لگا لے
اذان ہو گی نماز ہو گی
وہ چاہے نو لاکھ کو بلا لے
گرا سکے گا نہ تیرا کعبہ حسین ہے نا
الٹ دی مٹھی سی آستینیں
کمر میں رومال اس کی باندھا
نظر اتاری نظر سے اپنی
علی کی بیٹی نے پھر یہ بولا
رباب دیکھو تمہارا بیٹا حسین ہے نا
اداس بیٹھا ہے کیوں مسلماں
نہیں اگر حج کی استطاعت
دنیا تو جا ابھی کربلا جا
خلوص سے دل میں کر کے نیت
بغیر حج بھی تو حاجی ہو گا حسین ہے نا
وہ سب بلاؤں کو ٹال دے گا
وہ مشکلوں سے نکال دے گا
نصیری خلاف چاہے ہو ساری
وہ خود اکیلا سنبھال لے گا
علی کے شیعوں تمہارا مولا حسین ہے نا
نہ وہ کسی سے ہوا ہے پیدا
نہ کوئی بھی اس سے ہو گا پیدا
یہ شرط توحید ہے
بتا کہ اب تیرا کیا بنے گا؟
تیرے خدا کا تو ایک بیٹا حسین ہے نا
خدا کی عزت رکھی ہے جس نے
ملے گی مجھ کو وہیں سے عزت
اٹھا لو دولت اٹھا لو شہرت
نہیں تکلم کو کچھ ضرورت
حسین دنیا کا کیا کروں گا حسین ہے نا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.