Hum Ne Zahra Ko Hai Bohat Mara
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Syed Muhammad Shah
لکھنے والے نے خط میں یہ لکھا
ہم نے زہرا کو ہے بہت مارا
لے لیا یوں غدیر کا بدلا
ہم نے زہرا کو ہے بہت مارا
جب وہ حق مانگنے کو آئی تھی
ساتھ بیٹے گواہ لائی تھی
ہم نے انکار کر دیا سب کا
بیٹھ جائے تو اٹھ نہیں سکتی
بنت سرور ہے اس قدر زخمی
کر نہیں پاتی فاطمہ سجدہ
روبرو جب پدر کے جائے گی
اپنا چہرہ دکھا نہ پائے گی
اس کا چہرہ ہے اس قدر نیلا
جلتے در کو گرا دیا اس پر
اور در سے گزر گیا لشکر
اس کا پامال ہو گیا بیٹا
چومتے تھے جسے رسول انعام
جس سے کرتی تھی وہ علی کو سلام
ہاتھ پہلو سے وہ نہیں اٹھتا
خون کے تھے وہاں زمیں پہ نشاں
گر گئی تھی جہاں حسین کی ماں
خوں اتنا تھا پسلیوں سے بہا
کوئی ٹھوکر سے مارتا تھا اسے
کوئی ہنستا تھا مار کر درے
یوں پدر کا اسے دیا پرسہ
اپنے محسن کو یاد کرتی ہے
ہاتھ زینب کا تھامے چلتی ہے
اس کو اب کچھ نظر نہیں آتا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.