Pamali e Lash e Hussain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Wajeeh Hasan Zaidi
راوی کہتا ہے کہ جب کٹ گیا سرور کا گلا
واحسینا کی صدائیں تھیں سر کرب و بلا
جشن میں ہو گئے مصروف سبھی اہل جفا
عمر سعد نے نا گاہ یہ دی بڑھ کے صدا
لاش صد چاک کا اب اور برا حال کرو
سر جو کاٹا ہے تو اب لاش کو پامال کرو
چاروں جانب سے لعینوں میں گھرا جب سرور
گرز مارا کسی ظالم نے سر اقدس پر
کوئی پہلو میں لگاتا تھا سناں و خنجر
مارتا تھا کوئی مظلوم کو بھر کر پتھر
پاس جس کے نہ تھا کچھ وہ یہ ستم ڈھاتا تھا
زخم پر جلتی ہوئی خاک گرا جاتا تھا
تازہ دم گھوڑے وہاں دشت میں منگوائے گئے
دس سوار ان کے لیے فوج سے بلوائے گئے
زین باندھی گئی اور گھوڑے بھی سجائے گئے
وزن کے واسطے آہن انہیں پہنائے گئے
نعل بندی ہوئی عربوں کے قبیلوں والی
نعل پہنائی گئی گھوڑوں کو کیلوں والی
لاشے پامال جونہی کرنے کا اعلان ہوا
شور باجوں کا بڑھا فوج میں ہیجان ہوا
نعل بندی کا ادھر دشت میں سامان ہوا
اور ادھر نالہ کناں خلد میں رضوان ہوا
روح زہرا و علی قبر میں تھرانے لگی
دشت میں ہائے حسینا کی صدا آنے لگی
لاش سرور پہ عدو گھوڑوں کو دوڑانے لگے
اور بھی زینب و کلثوم کو رلوانے لگے
ہڈیاں ٹوٹیں تو اعضاء بھی بکھر جانے لگے
لاش کے ٹکڑے فرس دشت میں پھیلانے لگے
پسلیاں ٹوٹنے کی رن میں صدا آنے لگی
رنج کے مارے بہن شاہ کی غش کھانے لگی
دس کے دس گھوڑے جو پامالی کو تیار ہوئے
اشقیاء ان کے ان گھوڑوں پہ اسوار ہوئے
لاش خستہ سے عدو برسر پیکار ہوئے
عرش پہ گریہ کناں احمد مختار ہوئے
زد پہ پامالی کی تھا حق کے ولی کا لاشہ
بیچ لشکر تھا حسین ابن علی کا لاشہ
کیا خبر ہم کو کہ کس کس نے اٹھائے ٹکڑے
فاطمہ زہرا نے پہلے تو سمیٹے ٹکڑے
ساتھ میں لوگوں کے سجاد نے ڈھونڈے ٹکڑے
ہائے پھر بھی نہیں مل پائے تھے سارے ٹکڑے
قلب احمد کے جو تھے ٹکڑے اسی خاک میں ہیں
شاہ کے جسم کے کچھ ذرے اسی خاک میں ہیں
ہر طرف پھیل گئے لاش کے ٹکڑے رن میں
خون باقی نہ رہا شاہ کے خستہ تن میں
جسم کا خون تھا سب خاک کے ہی دامن میں
خلد سے روتی ہوئی آگئی زہرا بن میں
دور تک رن میں ادھر اور ادھر جاتی تھیں
لاش کے ٹکڑوں کو چادر میں اٹھا لاتی تھیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.