Tanhai ali ki
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Shahid Baltistani
ہائے زہرا تیری تنہائی ہے تنہائی علی کی
ہائے غم میں تیرے جاتی رہی بینائی علی کی
تیری تنہائی ہے تنہائی علی کی
دربار میں ظالم کے گئی بنتِ پیعمبر
کیا وقت تھا کچھ کر نہ سکا فاتح خیبر
ہائے ہنستے رہے غربت پہ تماشائی علی کی
...تیری تنہائی ہے
پیغام ِ ولایت لیے گھر گھر گئی زہرا
شوہر کے لیے ڈھال تھی جب تک رہی زندہ
ہائے دُنیا کو بتاتی رہی سچائی علی کی
...تیری تنہائی ہے
کہتے تھے علی زہرا سے کیا حال ہے بی بی
اب ہم کو سلام آ کے بھی کرتا نہیں کوئی
ہائے ہے بعدِ نبی کیسی پزیرائی علی کی
...تیری تنہائی ہے
در جلتا ہوا فاطمہ زہرا پہ گرایا
محسن کی شہادت کا سبب بن گئی دُنیا
ہائے تصویر مکمل نہیں ہو پائی علی کی
...تیری تنہائی ہے
باہر کبھی حجرے میں کبھی قبرِ نبی پر
ہر رات کی تاریکی میں اولاد سے چھُپ کر
ہائے نکلی ہے تجھے ڈھونڈنے بینائی علی کی
...تیری تنہائی ہے
زہرا کی جُدائی کو لگائے ہوئے دل سے
پچیس برس مولا نے چُپ چاپ گُزارے
ہائے اک حجرے میں کُل دُنیا سمٹ آئی علی کی
...تیری تنہائی ہے
اُس وقت تکلم وہ زمانے کا ولی تھا
سجاد جو زینب کو لیے شام سے گُزرا
ہائے اسلام کو خاموشی بچا لائی علی کی
...تیری تنہائی ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.