Ankhon Se Khoon Roya Sajjad Umar Sari
Noha Lyrics & Urdu Writeup
آنکھوں سے خون رویا سجاد عمر ساری
بازار کا وہ منظر بھولا نہیں مہاری
مارو نہ تازیانے زخمی ہے پشت عابد
ہاتھوں میں ہتھکڑی ہے گردن میں طوق بھاری
زینب پکاری رو کر برساؤ یوں نہ پتھر
عابد کو خون رلائے پھپھی کی آہ و زاری
کہتی تھی یہ سکینہ سجاد سے اے بھائی
دردوں کا یہ خزینہ میراث ہے ہماری
دربار اشقیاء میں ماحول تھا شرابی
قیدی نے مشکلوں سے اک اک گھڑی گزاری
غربت پہ اپنی شہ کی آنکھوں سے بڑھ گیا خون
لاش سکینہ اس نے تربت میں جب اتاری
جب ہو گئی شہادت سجاد کی اے لوگو
آنکھوں سے خون کفن میں ہائے تھا پھر بھی جاری
مولا کرم یہ کر دے لفظوں میں سوز بھر دے
افراز تیرے در کا ادنی سا ہے بھکاری
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.