Laila Duaein Kijiye Jeeta Rahe Akbar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Syed Reza Abbas Zaidi
مرنے کے لئے جب چلے میدان میں اکبر
پیچھے چلے گرتے ہوئے اٹھتے ہوئے سرور
جب دور ہوا شاہ کی آنکھوں سے وہ دلبر
لوٹ آئے کہا مادر اکبر سے یہ رو کر
لیلی دعائیں کیجئے جیتا رہے اکبر
بیٹے کے حق میں ماں کی دعا رد نہیں ہوتی
اس بات پہ شبیر کا دل پھٹتا ہے غم سے
ایسے تو کبھی دور نہ اکبر ہوئے ہم سے
اکبر کو جیتا دیکھ کر ہم جیتے رہے ہیں
اکبر کو مرتا دیکھ کر مر جائیں گے ہم بھی
رخصت کی گھڑی یاد ہے تم بھی تو وہیں تھی
اکبر کے کلیجے سے نظر ہٹتی نہیں تھی
لیلی ہمارے لال کا نازک سا ہے سینہ
سینے پہ نہ بیٹا میرا کھائے کوئی برچھی
اب جلد دعا کیلئے ہاتھوں کو اٹھا لو
اے مادر اکبر میری زینب کو بچا لو
اٹھارہ سال اس نے ہی اکبر کو ہے پالا
کڑیل جواں کی لاش وہ نہ دیکھ سکے گی
میں بھول نہیں پاؤں گا احسان تمہارا
اس عالم غربت میں دو تم ساتھ ہمارا
اکبر میرا جوان اور ہم پر ہے ضعیفی
ہم سے تو جواں لال کی میت نہ اٹھے گی
آواز یہی آتی ہے صغری کی وطن سے
ایک بار ملا دے خدا بھائی کو بہن سے
اکبر سے مل نہ پائی تو مر جائے گی صغری
معلوم ہے تم کو میری بیمار ہے بیٹی
سہرے کے سجانے کا جو ارمان ہے لیلی
ارمان ہی رہ جائے گا اکبر جو نہ آیا
اکبر کو اپنے ہاتھ سے ہم دولہا بنائیں
اٹھارویں منت بھی تو ہم کو ہے بڑھانی
لوٹ آیا جو میدان سے شبیر کا دلبر
پیاسہ ہوں بہت باپ سے کہنے لگے اکبر
پانی کی بات آئی تو رونے لگے مولا
خیمے کی سمت دیکھ کر آواز یہی دی
یہ کہتے ہوئے لیلی نے ہاتھوں کو اٹھایا
جس طرح سے یعقوب کو یوسف سے ملایا
اکبر کو ایک بار تو سرور سے ملا دے
شبیر کی یہ بات میں اب سن نہ سکوں گی
ذیشان و رضا وہ جواں پھر رن کو سدھارا
سینے پہ سناں کھائی تو بابا کو پکارا
پہنچے جواں کے پاس جب روتے ہوئے سرور
برچھی یہی کہتے ہوئے سینے سے نکالی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.