Qoum e Jinnat Ka Shah e Umam Main Zafar Hoon
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Meethum Abbas
غلام فاتح خیبر العلم میں زعفر ہوں
قوم جنات کا شاہ امم میں زعفر ہوں
خاص مجھ پر ہے علی کا کرم میں زعفر ہوں
آج روتا ہوں مگر تھام کر اپنا جگر
دشت میں مارا گیا میرے آقا کا پسر
ہے یہ افسوس میں موجود رہا
جان مولا پہ فدا کر نہ سکا ہائے کچھ کر نہ سکا
وہ میرے جشن کا دن تھا سجا تھا تاج میرا
روز عاشور تھا پھیلا ہوا تھا راج میرا
سنو میں تم کو بتاتا ہوں واقعہ جو ہوا
دو غلاموں نے میرے آ کے کہا اے مالک
قتل ہوتا ہے جو مالک ہے تیرا اے مالک
جس کے بابا کے سبب تاج ملا اے مالک
ہو گیا حشر بپا تاج پیروں میں گرا
اپنے لشکر کو لیے میں چلا کرب و بلا
میں بڑھا آگے کہ مل جائیں مجھے میرے امام
مجھ کو تا حد نظر آیا لشکر شام
میری پرواز ہوئی شہر مسیب پہ تمام
رک گئے میرے قدم، رک گئے میرے قدم
میری آنکھوں نے وہاں لاکھوں کا مجمع دیکھا
جہاں شبیر کو انسانوں نے تنہا دیکھا
انبیاء بھی تھے ملائک تھے اجنہ تھے کھڑے
ایسے نورانی بشر تھے کے نظر نہ ٹھہرے
ایک جانب تھے رسول عربی
ایک جانب تھے حسن ابن علی
ایک جانب تھے علی
پھر نہ آنکھوں کو میرے تاب رہی
نبی آدم نبی موسی نبی ہارون دکھے
اپنی نظروں کو جھکا کر جو ہٹایا پیچھے
میں نے زہرا کی سواری دیکھی
عیسی و یوسف و یعقوب بھی پہلو میں ملے
زکریا یحیی اور شیث و سلیمان بھی تھے
ہود اور لوط کہیں نوح کہیں خضر کہیں
مختصر یہ کہ نئی سارے وہاں تھے موجود
ان کے پیچھے تھی ملائک کی قطاریں موجود
فرشتگان جہنم فرشتگان بہشت
عزرائیل اسرافیل میکائیل دردائیل رضوان اور مالک فطرس و جبرائیل
ساتھ شبیر کے موجود تھے سب عالی مقام
میں نے سوچا کہ کہاں جائے بھلا ادنی غلام
مجھ کو پہچان بھی پائیں یا نہیں میرے امام
ہائے امید میری دل میں مرجھانے لگی
کہ اچانک سے وہاں یہ صدا آنے لگی
آؤ زعفر تمہیں شبیر نے بلوایا ہے
حکم پہ آپ کے ہوں فدیہ شہ جن و بشر
ہو سلام آپ پہ اس جن کا شہ جن و بشر
پہنچا قدموں میں کہا مولا شہ جن و بشر
دل میرا ڈوب گیا جب یہ مولا نے کہا
تم پلٹ جاؤ اگر ہونے آئے ہو فدا
میں نے مولا سے کہا اذن مجھے دیں شہ دیں
بولے شبیر یہ جنات کی ہے جنگ نہیں
میں یہ بولا کہاں انسان ہیں درندے ہیں سبھی
تم ہی بتلاؤ جیوں کیسے بھلا میں زعفر
انہیں تم کچھ نہ کہو انہیں تم کچھ نہ کہو
بولے شبیر کے نانا کی یہ امت ہے میری
آؤ دکھلاؤں تمہیں کرب و بلا میں زعفر
دیکھو میرے پیاروں کے یہ لاشے دیکھو
جنازے دیکھو جانثاروں کے
ٹکڑے قاسم کا سراپا دیکھو زخمی اکبر کا کلیجہ دیکھو
دیکھو کہیں عباس کے بازو کہیں اصغر کا گلو
رن میں بکھرا ہے سبھی بنی ہاشم کا لہو
مختصر یہ کہ ہوئے قتل شہ جن و بشر
اس سے آگے میں بیاں کر نہیں سکتا منظر
دل کو اب تاب نہیں پھٹنے لگا ہے یہ جگر
وعدہ عابد سے کیا میں ہوں مصروف عزا
جب تلک زندہ رہا میں کروں گا گریہ
تھا یہی میثم و سلمان کلام زعفر
کربلا میں ہیں جہاں دفن امام زعفر
اس سے کچھ دور ہے موجود مقام زعفر
زعفر جن نے کیا اپنے وعدے کو وفا
آخری سانس تک تھی لبوں پر یہ صدا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.