Suno Bali Sakina Ki Kahani
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Meesam Kashmiri
حسین ابن علی کی لاڈلی تھی
سکون قلب سرور تھی وہ بچی
نماز شب میں جس کو مانگتے تھے
جسے شبیر بے حد چاہتے تھے
جدا ہوتے نہ تھے بیٹی سے مولا
تھا معصومہ کا بستر شہ کا سینہ
بن زہرا پہ تھی رب کی عنایت
برائے شاہ والا تھی وہ رحمت
وہی تھی باعث تسکین بابا
وہ جس کا نام تھا بالی سکینہ
عزادارو! ہوا اک دن پھر ایسا
پڑا شبیر کو یثرب سے جانا
پتہ تھی شاہ دیں کو یہ حقیقت
سفر کرب و بلا ہوگی شہادت
بنا بیٹی کے جی سکتے نہ تھے وہ
سفر میں ساتھ اس کو لے گئے وہ
کبھی وہ دھوپ میں کرتی تھی سایہ
کبھی بابا کا وہ لیتی تھی بوسہ
پلایا کرتی تھی بابا کو پانی
سکینہ تھی بہت بابا کو پیاری
سفر کرب و بلا تھی وہ مصیبت
تھا پانی بند اور گرمی کی شدت
فغاں تھی چھوٹے بچوں کی فضا میں
صدائے العطش تھی کربلا میں
یہ کہتے تھے اسے بچہ حرم کے
ہمیں پانی دلا دیجے چچا سے
مگر تھا جاں بلب ششماہا اصغر
اسے غم تھا نہ مر جائے برادر
کئی دن سے نہ جو پانی ملا تھا
بہت پیاسی تھی معصومہ سکینہ
میان کربلا پھر اس نے دیکھے
چچا اور بھائیوں کے بکھرے لاشے
اسی اک دن میں اس کے بابا جاں نے
بہتر لاشے مقتل میں اٹھائے
تھے بن میں رہ گئے تنہا جو مولا
کیا نو لاکھ نے مولا پہ حملہ
کٹے جاتی تھی امت شہ کو زخمی
پدر سے دور جاتی تھی نہ بچی
شقی نے شہ پہ پھر خنجر چلایا
سر شبیر نیزے پر چڑھایا
الم شام غریباں کے سوا تھے
جلے سادات کے خیمے ستم سے
لٹی سب بیبیوں کے سر سے چادر
چھنے کانوں سے معصومہ کے گوہر
بہت کھائے سکینہ نے طمانچے
سہے اس نے مسلسل تازیانے
صدا دیتی تھی عمو جاں کہاں ہو
چچا غازی! مجھے آ کر بچاؤ
بہت زخمی تھی شہ کی شاہزادی
لہو تھا اس کے رخساروں سے جاری
ستم سہ سہ کے بچی تھک چکی تھی
سکینہ کو بہت نیند آ گئی تھی
مگر کیسے، کہاں سوتی سکینہ
اسے تھا چاہیے بابا کا سینہ
سر مقتل وہ لاشوں سے گزر کر
جو نکلی ڈھونڈنے بابا کو مضطر
بکا کرتی تھی بابا جاں! کہاں ہو
مجھے اک بار سینے سے لگا لو
صدا آئی یہ لاشے سے الہی
سکینہ جان الہی یا بنی
چلے جب شام کی جانب تھے قیدی
رسن بستہ، اسیرہ تھی وہ بچی
طمانچے مارتا تھا جب ستمگر
وہ گر جاتی تھی منہ کے بل زمیں پر
لعیں کا ہاتھ کچھ ایسا تھا بھاری
طمانچوں سے تھا خوں بچی کا جاری
تڑپ کر بارہا یاد پدر میں
گری وہ پشت ناقہ سے سفر میں
کہیں اس کو میسر تھا نہ پانی
سکینہ شام تک آئی ہے پیاسی
ہوئی پھر قید زندان ستم میں
ارم، میثم تھی وہ بابا کے غم میں
ملا اک روز اس کو سر پدر کا
سنایا ہر الم بابا کو اپنا
کہا: بابا مجھے مارے طمانچے
مرے گوہر ترے قاتل نے چھینے
تری بیٹی بہت زخمی ہے بابا!
سکینہ آج بھی پیاسی ہے بابا!
سر بابا کو سینے سے لگائے
سکینہ چل بسی زنداں میں ہائے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.