Kya Kare Abbas
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Mir Hasan Mir
رسن میں ہاتھ بندھے ہیں بہن ہے بے پردہ
سناں سے سر نہ گرائے تو کیا کرے عباس
وہ کس طرح سے تسلی دے آ کے مادر کو
کیا ہے دشت میں دو بار ذبح اصغر کو
لحد سے آگیا نیزے پہ جسم اصغر کا
پدر کی لاش سے اس کو چھڑایا جاتا ہے
ستم ہے ناقے پہ تنہا بٹھایا جاتا ہے
رسن میں بالی سکینہ کا بندھ رہا ہے گلا
دھیان لاشہ شبیر سے ہٹانا تھا
دوبارہ سید سجاد کو بچانا تھا
گری ہے ناقے سے مقتل میں ثانی زہرا
چھپا کے بالوں سے منہ شرمسار ہوتی ہیں
وہ پشت ناقہ پہ اب خود سوار ہوتی ہیں
یہ کیسا وقت ہے زہرا کی بیٹیوں پہ پڑا
ہے نیل چہرے پہ اتنے طمانچے مارے ہیں
لعیں نے کھینچ کے کانوں سے در اتارے ہیں
ہے دونوں کانوں سے معصوم کے لہو بہتا
کہیں پہ قاسم و اکبر کہیں پہ عون کا سر
کہیں ہیں لال رقیہ کے اور کہیں اصغر
وہ بچے نیزوں پہ ہیں گود میں جنہیں پالا
سر اس کا کیسے سناں پر کوئی اٹھا کے چلے
جو شہ کے سامنے نظریں سدا جھکا کے چلے
تقاضا میر تکلم ہے اس کی غیرت کا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.