Sakina Mar Gayi Sakina Mar Gayi Duhai Hai Duhai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Yasir Tabatabai
سکینہ مر گئی سکینہ مر گئی
دہائی ہے دہائی ہے
جب سر شبیر زنداں میں سکینہ کو ملا
تب سفر کا حال سارا اپنے بابا کو دیا
بولتے ہی بولتے خاموش بچی ہوگئی
رو کے زینب نے کہا یہ سید سجاد سے
جاؤ حاکم کی طرف کہنا اسے تم یاد سے
اب ہمیشہ کے لیے آزاد بچی ہوگئی
باپ کا سر کر لو میت سے جدا لخت جگر
منہ کو آتا ہے کلیجہ خود میرا لخت جگر
آگئی زندان میں کیسی مصیبت کی گھڑی
ہائے سکینہ کی صدا آنے لگی زندان سے
جب سر بابا چھڑایا عابد بیمار نے
ہو گیا کہرام برپا پیٹتے تھے سر سبھی
جسکے رونے سے پریشاں تھے سپاہی شام کے
ہاں سکوں کی نیند سوئیں گے وہ سب ہی آج سے
رونے والی باپ کو روئے گی اب نہ پھر کبھی
دفن کرنے جب چلا خواہر کو وہ بے کس امام
لاش بھی زنجیروں میں جکڑی تھی اور بے بس امام
کیا بیاں ہو اس گھڑی جو غربت سادات تھی
یوں نشاں عابد مٹاتے جاتے تھے خود قبر کے
ڈرتی تھی افراز بی بی اس قدر اس شمر سے
ہے سکینہ آج تک مرقد میں بھی سہمی ہوئی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.