Zindan Mein Woh Bachi Guzri Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Wajeeh Hasan Zaidi
روتی تھی بہت جو بابا کو زنداں میں وہ بچی گزری ہے
اس چار برس کی عمر میں وہ رب جانے کتنا تڑپی ہے
گودی میں سکینہ کو لے کر مولا فرماتے تھے لوگو
وہ گھر ہی نہیں ہے میرے لئے جس گھر میں میری بچی نہ ہو
دنیا کیا جانے یہ بچی مظلوم کو کتنی پیاری ہے
وہ وقت عجیب تھا مولا پر کوئی نہ رہا جب اپنوں میں
تب آخری رخصت کی خاطر شبیر جو آئے خیموں میں
بابا سے لپٹ کر دیر تلک اس وقت یہ بچی روئی ہے
وہ شام غریباں تھی ظالم جب خیموں کے اندر آئے
فرصت ہی کہاں تھی یہ کہتے اے بچی اتارو در اپنے
یوں کھینچتے ہیں در کانوں سے ہائے بابا چلائی ہے
پہچان سکے نہ اپنے بھی کچھ حال ہے ایسا بچی کا
شبیر کی اس شہزادی کے کانوں سے لہو بھی ہے رستا
تاثیر طمانچوں کی دیکھو رخسار کی رنگت نیلی ہے
سب چھوٹے بڑے اک رسی میں ہے اس کے گلے میں بھی رسی
مقتل سے کوفے کی جانب لے جائے جاتے ہیں قیدی
سن کم جو ہے معصومہ کا اٹھتی ہے کبھی گر جاتی ہے
زندان میں اکثر دیکھا کے آصف وہ نہ سونے پائی ہے
اٹھ بیٹھی خواب سے چونک کے وہ جو نیند کبھی اسے آئی ہے
بابا بابا کہہ کر روتی اور سب کو ساتھ رولاتی ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.