Khak Pe Baithi Hai Zainab
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Meesam Kashmiri
جل گئے خیمے چھن گئی چادر خاک پہ بیٹھی ہے زینب
کرب و بلا میں گھر کو لٹا کر خاک پہ بیٹھی ہے زینب
مادر اصغر دیکھ رہی ہے
جھولا نہیں اب خاک پڑی ہے
پانی ملا تو بھائی کو رن میں
پیاسی سکینہ ڈھونڈ رہی ہے
لوٹ کے رن سے آئے نہ اصغر خاک پہ بیٹھی ہے زینب
سو گئے رن میں چاہنے والے
پاس نہیں اب گود کے پالے
چہرے پہ غم ہے آنکھ میں آنسو
ٹوٹا ہوا دل کیسے سنبھالے
بن میں عزا کا فرش بچھا کر خاک پہ بیٹھی ہے زینب
تھامے ڈھونڈ رہی ہے بالی سکینہ
دشت میں اپنے بابا کا سینہ
شمر طمانچے مار رہا ہے
ظلم سے اب کیسے حزینہ
جل گیا کرتا چھن گئے گوہر خاک پہ بیٹھی ہے زینب
فاطمہ صغری کا خط تھامے
بین کیئے ام لیلی نے
جاؤ مدینے اے علی اکبر
اپنی بہن سے وعدہ نبھانے
آؤ کہاں ہو اے میرے دلبر خاک پہ بیٹھی ہے زینب
آئے حال نہ پوچھے کوئی بہن کا
ہائے زخمی ہے لاشہ شاہ زمن کا
غیر ہیں سب پردیس میں ہائے
سنائے کوئی نہیں اب اپنے وطن کا
کہتی ہے زینب خاک اڑا کر خاک پہ بیٹھی ہے زینب
عون و محمد بھی نہیں آئے
ٹکڑے ہوئے قاسم کے ہائے
نا علی اصغر نا علی اکبر
حال اب زینب کس کو سنائے
سو گئے غازی بھی دریا پر خاک پہ بیٹھی ہے زینب
میثم اور ذیشان وہ غربت
کیسی تھی پیاسے بچوں کی حالت
ہاتھوں سے کوزے پھینک دیئے ہیں
یارب ہائے مصیبت ہائے قیامت
آئے نہیں عباس دلاور خاک پہ بیٹھی ہے زینب
دور وطن سے قید ہوئے سب
رونے لگیں یہ دیکھ کے زینب
رو کے یہ زینب کہتی ہیں
ایسا وقت کسی پر آئے نا یارب
بن گئے قیدی عابد مضطر خاک پہ بیٹھی ہے زینب
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.