Hai Sab Ka Yeh Nara Ali Maula Hamara Ali Aqa Hamara
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Nadeem Sarwar
ہے سب کا یہ نعرہ علی مولا ہمارا علی آقا ہمارا
کوئی رابعہ بصری تو کوئی لعل قلندر
کوئی بوعلی شاہ ہے تو کوئی ہم سا حسینی
تاریخ کے اوراق کے منہ میں جو زباں دوں
جو نعرہ حیدر کی فضیلت ہے بتا دوں
وہ معرکہ خیبر کا تمہیں یاد دلا دوں
مشکل میں جو اک بار پکارے تھے پیمبر
سینوں کی طرف ہاتھ جو ماتم کو اٹھے ہیں
رشتہ کسی مظلوم سے یہ جوڑ رہے ہیں
یہ منکر ماتم کی کمر توڑ رہے ہیں
یہ ماتمی دستے نہیں حیدر کا لشکر ہے
نعرے تو بہت اور بھی لوگوں نے لگائے
نعرہ کوئی ایسا نہ تھا خیبر جو ہلائے
بس نعرہ حیدر میں وہ اوصاف ہیں سارے
ڈوبا ہوا سورج بھی نکلتا ہے ابھر کر
گرتے ہوئے لوگوں کو یہ میداں میں اٹھا دیں
قرآں کی زباں بولنا پتھر کو سکھا دیں
طوفان کا رخ موڑ دیں آندھی کو بھگا دیں
یہ جام شہادت پیئیں قاتل کو جگا کر
ہوتی ہے یہاں آ کے یہ حق بات مکمل
سچ بات کہے جاؤ ہمہ وقت مسلسل
سچ بات کو مانیں گے سبھی آج نہیں کل
بس نام علی ورد کرو مثل قلندر
آؤ در حیدر کی طرف صورت قنبر
اس در کی جبیں سائی بناتی ہے قلندر
سلمان یہیں بنتے ہیں یہیں میثم و بوذر
یہ در تو بدل دیتا ہے حر کا بھی مقدر
حیدر کے غلاموں کو گھورنا ہو جدھر سے
طوفان بھی رخ موڑ کے چلتے ہیں ادھر سے
دیکھے کوئی حیدر کو پیمبر کی نظر سے
پیدا نہ ہوا شیر خدا کا کوئی ہمسر
در کعبہ کی دیوار میں قدرت نے کیا ہو
بت کعبے میں رکھے ہوئے جو توڑ رہا ہو
اللہ کا گھر جس کا زچہ خانہ بنا ہو
سب مل کے لگاتے رہو اب کعبے کا چکر
من گھڑت کہیں جس کو نبی شخص وہ کیا ہے
آقا وہی مولا ہے وہی حق کی صدا ہے
مولا وہ ہمارا ہے نصیری کا خدا ہے
اوصاف کسی میں نہیں حیدر کے برابر
جو تیغ تلے سجدہ معبود میں سر ہو
موت آئے گی سجدے میں جسے یہ بھی خبر ہو
مصروف بکا اس لیے کیوں نہ بشر ہو
وہ جس نے نہ چلنے دیا اسلام پہ خنجر
اسلام پہ سر مانگو تو ہم سر تمہیں دیں گے
اک سر کی ضرورت ہو بہتر تمہیں دیں گے
فرزند علی کی طرح ہم گھر تمہیں دیں گے
ہم سب ہیں غلام اس کے جو ہے ساقی کوثر
ہجرت کی وہ شب گھات لگائے ہوئے دشمن
محبوب خدا کیسے بچا سکتے ہیں دامن
پر صورت حیدر میں دیا ایک ہے روشن
لو سو گئے بن کے وہ محمد سر بستر
ریحان میری آنکھ سے بہتے ہوئے آنسو
ہیں راہ صداقت میں چمکتے ہوئے جگنو
ماتم کی صدا نوحے کی آواز ہر ایک سو
حیدر کے غلاموں نے ہی پھیلائی ہے سرور
وہ بازوئے عباس جو کاٹے گئے رن میں
وہ تیر جو پیوست ہیں سرور کے بدن میں
دوری ہوئی پردیس میں جب بھائی بہن میں
مرقد میں بکا کرتے تھے وہ خاک اڑا کر
وہ عصر کا ہنگام وہ شبیر کا سجدہ
وہ پیاس وہ گرمی وہ چمکتا ہوا دریا
اٹھ اٹھ کے وہ گرتا ہوا اک خیمے کا پردہ
آتی تھی در خیمہ سے آواز برابر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.