Aye Karbala Ke Chand Suna Shah Ki Dastan
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Syed Muhammad Taqi Rizvi
اے کربلا کے چاند سنا شہ کی داستاں
کیسے ہوئے تھے دشت بلا میں وہ مہماں
اے چاند تو نے دیکھا تھا شاہ زمن کا چاند
جب تیر کھا کے ہنستا تھا مقتل میں بے زباں
اللہ جانے کیا ہی ہے اب امتحان شام
کرب و بلا کا اتنا کٹھن ہے گر امتحاں
سب جاں نثار شاہ چلے جانب بہشت
تنہا فقط حسین تھے اعداء کے درمیاں
اے چاند ڈھونڈتا تھا کوئی جب جواں کی لاش
ہنستے تھے اعداء اس کو دکھاتے ہوئے سناں
اے چاند کیوں نہ دشت لہو روئے شاہ پر
اپنے لہو سے دشت کی جس نے بڑھائی شاں
اکبر کا لحن صغری کو جیسے رلاتا تھا
ویسے ہمیں رلاتی ہے عاشور کی اذاں
حیدر فلک پہ آتا ہے ہر سال غم کا چاند
روتا ہے خون دیکھ کے جس کو یہ آسماں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.