Sultan e Karbala Ke Mehman
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Raza Abbas Zaidi
لکھا ہے یاحسین محرم کے چاند پر
زہرا بھی آگئیں ہیں بقیعہ کو چھوڑ کر
ٹوٹے ہوئے دلوں کا سہارا ہے جس کا در
آجاؤ اس حسین کی جانب کریں سفر
جو کبریا کی شان محمد کی جان ہے
ہاں اپنے زائروں کا جو خود میزبان ہے
دم بدم قدم قدم ہے دل میں عشق کربلا حسینا حسینا
چلے چلو بڑھے چلو حسین کی صدا سنو
زائروں کے قافلوں سے آرہی ہے یہ صدا حسینا حسینا
حسین تم کو بلا رہے ہیں ہے سامنے کربلا
اکبر کے ساتھ غازی خود لینے جا رہے ہیں
سلطان کربلا کے مہمان آ رہے ہیں
پرچم کے سائے میں ہے عباس کی سواری
جو بے کفن ہے اس کا دربار سج رہا ہے
مہماں نوازیوں کی تیاریاں ہیں جاری
وہ ہو رہا ہے جو بھی عباس نے کہا ہے
شبیر کا حرم ہے ہلچل ہے خادموں میں
ہیں سرخ روشنی میں کالے لباس والے
گنبد پہ شاہ دیں کے پرچم لگا رہے ہیں
رو رو کے فرش ماتم خادم بچھا رہے ہیں
رو رو کے کہہ رہے ہیں افسوس ہے یہ بی بی
نورانی چہرے والے گالوں پہ خاک مل کر
اے کاش ہم جو ہوتے عاشور والے دن بھی
زوار آ رہے ہیں پیدل نجف سے چل کر
نو لاکھ ظالموں میں تنہا نہ ہوتے مولا
اس عشق کے سفر میں ہر شخص میزبان ہے
لبیک کہہ رہے ہیں اور روتے جا رہے ہیں
کچھ لوگ راستے سے پتھر ہٹا رہے ہیں
ان پر سلام ہو جو بیساکھیوں پہ آئے
تھامے ہوئے تبرک راہوں میں جو کھڑے ہیں
پاؤں کے بل نہیں تھے پھر بھی نہ لڑکھڑائے
قاسم کا نام لے کر تقسیم کر رہے ہیں
ملتی نہیں سبھی کو یہ عشق کی بلندی
دونوں جہاں میں ایسا جذبہ کہیں نہ دیکھا
بس یاحسین کہہ کر وہ چلتے جا رہے ہیں
جو سال بھر کمایا وہ سب لٹا رہے ہیں
یہ وہ زمیں ہے جس پر پیاسی رہیں سکینہ
ذیشان اور رضا جب مولا کے پاس جانا
غازی کو یاد کر کے روتی رہیں سکینہ
حر کی قسم ہے تم کو تبدیل ہو کے آنا
اب اس زمیں پہ کوئی پیاسا نہیں ہے دیکھو
اے زائرین مولا ہے اصل یہ زیارت
پیاسوں کو مشک والے پانی پلا رہے ہیں
ان کی ہے میزبانی جو حر بنا رہے ہیں
تم اپنے دل میں زیارت کی آرزو رکھنا
پھر ان کا کام ہے جذبے کی آبرو رکھنا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.