Hamare Hain Ya Hussain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Nadeem Sarwar
اربعین حسین اور حسینی لشکر کا
نگاہیں روضہ شبیر کے طواف میں ہیں
یہی مقام تھا اک بندہ خدا جس کا حسین نام تھا
وہ اپنے دل پہ بہتر کے زخم اٹھاتا رہا
بس ایک عزم تھا انسان سرخرو ہو جائے
انسانیت کی شان بڑھائی حسین نے
انسانیت بشر کو سکھائی حسین نے
انسانیت کی پیاس بجھائی حسین نے
انسان جب حسین کے پیکر میں ڈھل گیا
انسانیت پکاری و تعز من تشا
کہ ہمارے ہیں یا حسین کہ ہمارے ہیں یا حسین
میں کربلا میں کھڑا ہوں لباس سوگ میں ہوں
ہر ایک نسل ہر ایک رنگ ہر زبان کے لوگ
خیال آتا ہے اکسٹھ سن ہجری کا اور اس محرم کا
ہر ایک دور کے انساں کی آبرو کیلئے
قدم بڑھاتا رہا، قدم بڑھاتا رہا
انسانیت پہ ہے احسان حسین کا
احسان ہی تو ہے احسان کا صلہ
ہر دل میں یا حسین ہر دل میں کربلا
بیدار کر دیا جو زمانہ حسین نے
بے ساختہ تمام زمانہ یہ کہہ اٹھا
کہ ہمارے ہیں یا حسین کہ ہمارے ہیں یا حسین
انسانیت کا مکتب گھر پنجتن کا رکھا
اس گھر میں پنجتن کے اک شہر کو بسایا
پھر اپنا خون دے کے اس شہر کو سنوارا
چلو فرماتے تھے حسین وہ انسان نہیں ہے
لوٹے جو دل کا چین وہ انسان نہیں ہے
روئے نہ جس کے نین وہ انسان نہیں ہے
ہنس دے جو سن کے بین وہ انسان نہیں ہے
انسان کو حسین نے انسان بنا دیا
سورے میں ماء و طین کے اللہ نے سنایا
تخلیق گل میں انساں اشرف تجھے بنایا
انساں کا درد دل میں انسان کے اتارا
انسانیت سمجھنے چلو کربلا چلو
ہاں تھام لو حسین کے دامن کو تھام لو
حر، جون اور حبیب کی صف میں کھڑے رہو
دل ہے تو اب حسین کی آواز کو سنو
انسانیت بچائے وہ انسان ہے انسان
اس طرف سلطنت و دولت و طاقت کا غرور
اس طرف چھوٹا سا گھر فاقوں میں ہے منبع نور
ایک طاقت کے تکبر میں جو اترا کے چلا
دوسرا نانا کے مرقد سے دعا پا کے چلا
ایک نو لاکھ کے لشکر کو لیے ساتھ چلا
دوسرا گود میں اصغر کو لیے ساتھ چلا
دو طرح کے ہوا کرتے ہیں جہاں میں انساں
ہیں جدا راستے دونوں کے بقول قرآں
آدمی ایک یزید ازلی میں ابھرا
ایک انسان حسین ابن علی میں ابھرا
اس طرف خام خیالی نیا اسلام بنے
اس طرف عزم جلالی کہ شریعت نہ مٹے
یہ شہر نینوا ہے یہ شہر ماریہ ہے
یہ شہر کربلا ہے، یہ شہر کربلا ہے
دل ہے تو کربلا دل ہے تو یا حسین
انسانیت بچائے وہ انسان ہے انسان
انساں کا دکھ اٹھائے وہ انسان ہے انسان
درس وفا سکھائے وہ انسان ہے انسان
جو سب پہ رحم کھائے علم و عمل بڑھائے
انسانیت کے لب پہ مسلسل تھی یہ صدا
کروڑوں لوگ ہیں سارے لباس سوگ میں ہیں
لبوں پہ ہائے حسینا غریب ہائے حسین
رہ خدا میں ہتھیلی پہ سر اٹھائے ہوئے
وہ اپنے جسم پہ زخموں پہ زخم کھاتا رہا
بس ایک دھن تھی کہ انسانیت نہ مر جائے
دنیا کے ہر ادب میں ہے حصہ حسین کا
دنیا کی ہر زباں پہ ہے قبضہ حسین کا
انساں سمجھ رہا ہے یہ رتبہ حسین کا
تاریخ کو حسین نے حیران کر دیا
سارے جہاں کے اہل قلم نے یہ لکھ دیا
کہ ہمارے ہیں یا حسین کہ ہمارے ہیں یا حسین
اس طرف نیزے تھے تلواریں تھیں اور بھالے تھے
اس طرف شوق شہادت لئے دل والے تھے
اس طرف جشن مناتے تھے زمانے والے
اس طرف بیکس و بے آس مدینے والے
اک طرف تشنہ دہاں سب کے سب خشک زباں
ان کا مقتل تھا جہاں ریت ساری تھی تپاں
دور تھی نہر رواں الحفیظ و الاماں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.