Bibiyan Royein Zar O Zar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Nadeem Sarwar
بیبیاں روئیں زار و زار، شہزادیاں روئیں زار و زار
لٹ گیا کربل میں گھر بار حسین، حسین، حسین، حسین
ہے آل نبی کی اور دربار حسین، حسین، حسین، حسین
زنجیر میں جکڑا ہے بیمار حسین، حسین، حسین، حسین
کوئی بین کرے بچوں کے لئے کوئی رو کے کہے بھائی نہ رہے
نہیں زینب کا کوئی غمخوار
کرب و بلا میں ہے یہ پکار
بے گور و کفن لاشے ہیں پڑے کیا خورد و کلاں کیا چھوٹے بڑے
ہوئے تیر ہزاروں دل کے پار
کرب و بلا میں ہے یہ پکار
اکبر کا جگر اصغر کا گلا عباس کے بازو تیغ جفا
ہائے حلق شہ دیں اور تلوار
کرب و بلا میں ہے یہ پکار
قاسم کا بدن پامال ہوا آتی تھی صدا دولہا دولہا
گھر آ جا تو بس اک بار
کرب و بلا میں ہے یہ پکار
کٹتا تھا شہ والا کا گلا روتی تھی زمین کرب و بلا
ہیں آج قیامت کے آثار
کرب و بلا میں ہے یہ پکار
رو رو کے سکینہ بین کرے دریا پہ گئے عمو میرے
اب کون کرے گا مجھ کو پیار
کرب و بلا میں ہے یہ پکار
بے پردہ ہوئے سب اہل حرم جب ٹھنڈا ہوا غازی کا علم
جینا ہے سکینہ کا دشوار
کرب و بلا میں ہے یہ پکار
جلتے ہوئے خیمے اہل حرم ہے شام غریباں اور ماتم
ہے قافلہ جانے کو تیار
کرب و بلا میں ہے یہ پکار
ریحان غم سرور کی قسم روتے ہیں میرے قرطاس و قلم
آنکھوں سے رواں اشکوں کی دھار
کرب و بلا میں ہے یہ پکار
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.