Safar e Shaam Ki Roodad Sunaon Kaise
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by John Rizvi
سفر شام کی روداد سناؤں کیسے
خون روتا ہے قلم اور بتاؤں کیسے
موت اچھی تھی یہ عابد نے کہا خون رو کر
ساتھ سادات کے بازاروں میں جاؤں کیسے
سر برہنہ ہیں پھوپھی اور بہن ساتھ میرے
چادر وارث تطہیر اڑھاؤں کیسے
کوئی پتھر لیے آتا ہے کوئی تیر و تبر
ہاتھ ہیں میرے بندھے ہائے بچاؤں کیسے
اپنے غم بھول گئیں زینب و کلثوم مگر
سوچتی تھیں کہ سکینہ کو بچاؤں کیسے
سر مظلوم نہیں بڑھتا سکینہ گم ہے
اس بیاباں میں اسے ڈھونڈ کے لاؤں کیسے
سر برہنہ ہے پس پشت بندھے ہاتھ میرے
اور دربار یزیدی ہے میں جاؤں کیسے
ماں اسی شہر کی شہزادی ہوا کرتی تھیں
قیدی بن کر میں اسی شہر میں جاؤں کیسے
جب سکینہ کو کنیزی میں تھا مانگا اس دم
گزری سجاد پہ کیا جون بتاؤں کیسے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.