Shah Ka Rota Raha Sar Karbala Se Shaam Tak
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Wajeeh Hasan Zaidi
شاہ کا روتا رہا سر کربلا سے شام تک
تھا عجب غربت کا منظر کربلا سے شام تک
بعد عاشورہ ملی ایسی یتیمی کی سزا
رنگ چہرے کا طمانچوں سے بدلتا ہی رہا
یوں گئی ہے شہ کی دختر کربلا سے شام تک
حسرتوں کی چادروں میں رکھ کے کفناتی رہی
چھوٹے چھوٹے بچوں کو رو رو کے دفناتی رہی
قید رہ کر بنت حیدر کربلا سے شام تک
چادروں کا پاسباں ہائے غم اٹھاتا کس طرح
نوک نیزہ پر سر عباس جاتا کس طرح
بنت زہرا تھی کھلے سر کربلا سے شام تک
ناتوانی پر سفر میں جابجا ہنستے رہے
پشت عابد پر ستم کی داستاں لکھتے رہے
تازیانوں سے ستمگر کربلا سے شام تک
خاک پر گرتی رہی لیکن اٹھا پایا نہیں
شمر کے ڈروں سے خواہر بچا پایا نہیں
کتنا بے کس تھا برادر کربلا سے شام تک
اے میری زینب ہے مادر ساتھ گھبرانا نہیں
اپنا پہلوئے شکستہ تھام کے کہتی رہیں
فاطمہ بنت پیمبر کربلا سے شام تک
عالم بے چادری میں غیرت الیاس کو
بعد سرور ہر گلی ہر موڑ پر عباس کو
یاد کر کے روئی خواہر کربلا سے شام تک
تھا سفر دشوار کتنا مصطفی کی آل کا
راہ میں چہرہ مسلسل خوں سے تر ہوتا رہا
دشمنوں نے مارے پتھر کربلا سے شام تک
تیرہ ضربوں سے کٹا تھا رن میں سرور کا گلا
بعد عاشورہ مسلسل قلب عابد پر چلا
جانے کتنی بار خنجر کربلا سے شام تک
بارشوں میں تازیانوں کی لہو روتے ہوئے
اپنی ماں بہنوں کی خاطر سید سجاد نے
ہر قدم مانگی ہے چادر کربلا سے شام تک
تم سے کرتے ہیں دعا اتنی وجیہہ اور یہ ہلال
بخش دو اذن زیارت فاطمہ زہرا کے لال
جائیں ہم یہ نوحہ پڑھ کر کربلا سے شام تک
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.