Neely Rukhsar Thay Kya Dadi Kay
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Wajeeh Hasan Zaidi
جانب نیزہ نظر کر کے بصد رنج و ملال
سر شبیر سے کرتی تھیں سکینہ یہ سوال
نیلے رخسار تھے کیا دادی کے
کیوں مجھے کہتے ہیں بابا یہ ستمگر زہرہ
رو نہیں پائی تھی کیا اپنے پدر کو وہ بھی
بالیاں کانوں سے کیا چھینی گئیں تھیں ان کی
سرخ تھا خون سے کیا ان کا بھی کرتا بابا
پسلیاں ٹوٹی تھیں دادی کی کمر میں خم تھا
شدت غم نے یہاں توڑا ہے پہلو میرا
کیا کیا کرتی تھیں میری طرح وہ بھی نوحہ
پشت ناقہ سے گرایا گیا رستے میں مجھے
کیا ستم یہ بھی اٹھایا تھا میری دادی نے
کیا انہیں باندھا گیا تھا سر پشت ناقہ
میں بدل پاتی نہیں کروٹیں بابا دیکھو
درد سونے نہیں دیتا تھا انہیں راتوں کو
رات دن زخموں سے کیا ان کے لہو رستا تھا
دل پہ وہ اپنے اٹھاتی رہیں ہر پل صدمے
نیلے رخسار تھے میری ہی طرح دادی کے
رخ پہ کیا ان کے بھی برسے تھے طمانچے بابا
اے ہلال اور وجیہہ غم کا عجب تھا منظر
نوک نیزہ پہ لہو روتا تھا شبیر کا سر
آ کے جب کرتی تھیں مقتل میں سکینہ گریہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.