Sare qabre zehra
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Farhan Ali Waris
اندھیرے اندھیرے یتیموں سے چھپ کر
سر قبر زہرا علی رو رہے ہیں
تمہاری مصیبت بھلاؤں گا کیسے
میں بچوں سے آنسوں چھپاؤں گا کیسے
تمہیں یاد کرکے جو روےنگے بچے
میں بچوں کو اپنے مناؤں گا کیسے
تصور میں زہرا سے کرکے یہ باتیں
جھکاے سر اپنا علی رو رہے ہیں
اندھیرے اندھیرے یتیموں۔۔۔
کبھی آنسوؤں کو چھپاتی ہے زینب
کبھی بھاییوں کو اٹھاتی ہے زینب
کبھی گھر کے آنگن میں آتی ہے زینب
کبھی ماں کے حجرے میں جاتی ہے زینب
کبھی رو کے دکھیا یہ کرتی ہے نوحہ
اٹھو اماں فضہ علی رو رہے ہیں
اندھیرے اندھیرے یتیموں۔۔۔
اٹھو شاہزادی ہوا ہے اندھیرا
تمہارے بنا وہ کہاں سو سکے گا
میں جاؤں گا واپس تو بولے گا بابا
میری ماں کہاں ہے بلادو خدارا
اکیلے جلا کر چراغ آنسوؤں کا
سر قبر زہرا علی رو رہے ہیں
اندھیرے اندھیرے یتیموں۔۔۔
ہے شہر نبی میں سماں کربلا کا
نہ کوئی تسلی نہ کوئی دلاسہ
ترستے ہیں گھر میں یتیمان زہرا
کوئی آ کے دیتا نہیں ان کو پرسہ
حسین حسن کا کہیں پر ہے گریہ
کہیں میرے مولا علی رو رہے ہیں
اندھیرے اندھیرے یتیموں۔۔۔
کبھی اس جگہ کو نہ بھولیں گے مولا
یہ کوچہ ہے مقتل دل مرتظی کا
یہاں سے نہ گزرے حسن بعد زہرا
ستمگر نے مارا تھا یوں تازیانہ
محمد کی بیٹی زمیں پر گری تھی
یہاں بیٹھے تنہا علی رو رہے ہیں
اندھیرے اندھیرے یتیموں۔۔۔
وہ لمحے ہیں مشکل علی کو بھلانا
وہ پہلو پہ جلتے ہوے در کا گرنا
وہ آہوں کا بھرنا وہ زخموں کا رسنا
شہادت وہ محسن کی زہرا کا رونا
تکلم ابھی تک اسی بے کسی پر
لحد میں بھی مولا علی رو رہے ہیں
اندھیرے اندھیرے یتیموں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.