Na Ro Maula Na Ro Maula
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Nadeem Sarwar
منہال نے اک دن آکے کہا اے مولا میرے اے زین العبا
غم زیادہ کہاں گزرے تم پر دل تھام لیا خوں رونے لگے
خوں روتے ہوئے بس اتنا کہا الشام الشام الشام
منہال تڑپ کر کہنے لگا بیشک میراث شہادت ہے
رونے کا سبب مولا ہے کیا یہ آل نبی کی فطرت ہے
میراث شہادت آپ کی ہے سر بے پردہ ماں بہنوں کا
مولا نے کہا لاریب مگر اک یہ بھی میری میراث تھی کیا
اف تو نے نہیں انصاف کیا الشام الشام الشام
منہال میں کیسے زندہ ہوں آغاز ہے شام غریباں سے
پل پل جیتا ہوں مرتا ہوں خوں ٹپکا چشم گریہاں سے
ان آنکھوں نے جو کچھ دیکھا بہنوں کا کھلا سر سامنے تھا
اک یہ بھی میری میراث تھی کیا اک یہ بھی میری میراث تھی کیا
کیسے بھولوں اس منظر کو ناموس پیمبر بے چادر
نیزے پہ پھوپھی کی چادر کو اور سر پہ برستے وہ پتھر
ساحل سے جو غازی نے دیکھا تر خون میں تھا سب کا چہرہ
اک یہ بھی میری میراث تھی کیا اک یہ بھی میری میراث تھی کیا
نہ غم طوق و زنجیر کا تھا اللہ میرے یہ حد ستم
غم پھوپھیوں کا ہمشیر کا تھا پہروں تھے کھڑے دربار میں ہم
بازار کے غم نے مار دیا اور تخت پہ قاتل بیٹھا تھا
اک یہ بھی میری میراث تھی کیا اک یہ بھی میری میراث تھی کیا
اک شام کا اک زندان کا غم ریحان و سرور شام چلو
معصوم سی ننھی جان کا غم اور شام کی وہ گلیاں دیکھو
جو ہو نہ سکی مر کے بھی رہا بیمار جہاں کہتا ہی رہا
اک یہ بھی میری میراث تھی کیا اک یہ بھی میری میراث تھی کیا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.